دوسری عالمی جنگ کے بعد اقوام متحدہ کی تشکیل اس مقصد سے کئی گئی تھی تاکہ دنیا پھر سے جنگ کی ہولناکیوں کا شکار نہ ہوں۔ پہلی دو عالمی جنگوں نے دنیا کو تباہی کے ایسے دلدل میں پھینک دیا تھا، جس کا تصور کرنا بھی مشکل ہے۔ پھر عقل والوں نے جنگ کے نقصانات کو مد نظر رکھتے ہوئے ایک ایسی تنظیم کی تشکیل کو بنانا ناگزیر سمجھا جو پوری دنیا کو جنگ کا میدان بننے سے بچائے۔ مگر اگر بغور مطالعہ کیا جائے تو اقوام متحدہ بس نام کی تنظیم رہ گئی ہے۔ اس کو مغربی ممالک اپنے مفادات کے لئے استعمال کرتے ہیں۔
سرد جنگ، اسرائیل کا قیام، کشمیر مسئلہ، یمن، شام، روس اور یوکرین کی جنگ وغیرہ کو سلجھانے میں اس تنظیم نے کوئی نمایاں رول ادا نہیں کیا۔ حقیر مفادات کی خاطر اس نے اپنے بنائے ہوئے اصولوں کا ہی گلا گھونٹ دیا۔ معصوموں کا قتل عام اور بستیوں کی ویرانیاں بھی اس کو دکھائی نہیں دیتے ہیں ۔ اب اور کتنے بےگناہوںکو مرنا ہوگا اور کتنی بستیوں کو ویران وتباہ ہونا ہوگا تب جاکر ان کو ہوش آئیگا؟ اصولوں کی باتیں اب دیوانوں کا شیوہ بن کر رہ گئی ہے۔ اقوام متحدہ کی حالت بھی کچھ ایسے ہی ہے۔
1945 سے لے کر آج تک اس نے کوئی نمایاں کام نہیں کیا ہیں! امریکہ، برطانیہ، فرانس، جرمنی، اسرائیل، وغیرہ ممالک کے تلوے چاٹنے میں یہ سب سے آگے ہیں۔یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ یہ تنظیم دنیا کے بااثر ممالک کے ساتھ مل کر مصیبتیں برپا کرتی ہے اور پھر مگرمچھ کے آنسوں بہا کر دنیا کو یہ باور کرانا چاہتی ہے کہ ہم انسانیت کی بہبودی کے لئے کام کرتے ہیں۔ اس قسم کی منافقت دنیا میں کہیں نہیں پائی جاتی ہیں۔ روس اور یوکرین کی جنگ کو ہی لیجیے۔ کونسا رول اس تنظیم نے ادا کیا! صرف کاغذی گھوڑوں پر سواری کرتے رہیں اور اس کشیدگی نے بیس ہزار سے زیادہ لوگوں کو موت کی گھاٹ اُتار دیا۔ کھربوں کا نقصان، جبری مہاجرت، بیماریوں میں اضافہ، کھانے کی کمی، تاریک مستقبل، وغیرہ ایسا کیا نہیں ہے جو اس جنگ نے دنیا کو دیکھنے پر مجبور نہ کیا ہو۔ناٹواتحادکی سازشوں اور یوکرینی صدر کے مسخرےپن نے معصوموں کو موت کے منہ میں دھکیل دیا۔ دنیا میں ایسے بہت سارے مسائل ہیں جن پر یہ پیسہ خرچ کیا جاسکتا ہے جو اس جنگ میں پانی کی طرح بہایا جاتا ہے۔ یمن اور افغانستان کے لوگ ایک روٹی کے لئے ترس رہے ہے مگر دنیا کے یہ ٹھیکیدار غرباء سے ان کے نوالے چھین کرکتوں کو کھلاتے ہیں یا پھر سمندر کے حوالے کردیتے ہیں؛ اصل میں اعلیٰ ہونے کا بھوت یہ کروانے پر مجبور کرتا ہے۔ اپنے آپ کو انسان اور دوسروں کو جانور نما انسان سمجھنے کے نتائج اسی شکل میں نکل کر آتے ہیں۔ شام کی خانہ جنگی اس تنظیم کو دکھائی نہیں دیتی ہے۔ چھ لاکھ لوگ پہلے سے ہی مرچکے ہیں۔ مہاجرین لاکھوں کی تعداد میں ہیں۔ غرباء کا شمار نہیں ہیں۔ مگر اس اندھی تنظیم کو یہ نہیں دکھتا ہے۔ ان کو امریکہ اور اس کے ساتھیوں کے مفادات کی فکر دامن گیر ہے۔ ان کو اس کے علاوہ کچھ اور سوجتا بھی نہیں ہے۔
اس دنیا میں غرباء کے حال پر صرف اللہ ترس کھاتا ہے۔ اس تنظیم کی ذیلی تنظیمیں بہبودی اور ترقی کی باتیں کرتے نہیں تھکتے ہیں مگر جب بات کرنے کی آتی ہے تب یہ کہیں بھی دکھائی نہیں دیتے۔ امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے کھربوں روپے ان جنگوں پر صرف کئے جو لاحاصل ہے۔ ویتنام، افغانستان، عراق، وغیرہ کچھ مثالیں ہیں جہاں اقوام متحدہ کچھ بھی کرنے سے قاصر رہی۔ ان جنگوں پر جتنا بھی خرچہ ہوا اس کی چوتھائی بھی دنیا سے غربت اور بیماریوں کا قلع قمع کرسکتا ہے۔ جب مادیت نے لوگوں کی آنکھوں پر پردہ ڈالا ہے اور مذہبی جنون نے لوگوں کو خدا بنا دیا ہے، تو ایسے میں یہ کیسے ممکن ہے کہ جنگوں کا خاتمہ ہوں۔ ایسی امید لگائے بیٹھنا، بیوقوفوں کی دنیا میں رہنے کی مترادف ہے۔
وقت کی ضرورت ہے کہ اقوام متحدہ اپنے وعدوں پر کھرااترے۔دنیامصیبتوںکی آماجگاہ بنی ہوئی ہے۔ غربت، بھوک،بےروزگاری، دہشت گردی، وغیرہ مسائل منہ کھولے ہوئے ہیں۔ ان کا تدارک وقت کی ضرورت ہے۔ اس دنیا کو اب امن کی ضرورت ہے ۔ ہم اور تباہی کی تاب نہیں لاسکتے ہیں۔








