اَلله تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اُس نے ہمیں مسلمان پیدا کیا۔ جب ایک بچہ مسلمان گھرانے میں جنم لیتا ہے یہ اُس کی سب سے بڑی خوش نصیبی ہے۔ اُس کے بعد وہ لوگ بھی بہت خوش نصیب ہیں جو مذہبِ اسلام کا بر پور مطالعہ کرتے ہیں اور اس سچے دین کو گلے لگاتے ہیں۔ چاہئے کوئی بھی شخص دُنیا کے کسی بھی مذہب،قوم، رنگ یا نسل سے تعلق رکھتا ہوں ،مذہب کا مطالعہ کرنا جائز اور درست ہے۔اِتنا ہی نہی بلکہ یہ سب سے اہم ہے۔ لیکن مذہبی تعلیمات پر شک کرنا غلط راستے پر چلنےکے لئے مجبور کرتا ہے۔ پھر ایک اچھے اسلامی گھرانے میں جنم لینا یا پرورش پانا کوئی فائدہ نہیں دیتا۔ بشرطِ توبہ نصیب ہو۔
مذہبی اختلافات دراصل انسانی دلوں کی وہ امراض ہیں جِس نے لوگوں کو مختلف گروہوں میں تقسیم کیا۔ پھر گروہوں میں تقسیم کرکے آپس میں لڑواتا ہے۔ گویا مذہبی اختلافات پیدا کرنا شیطان کا وہ ہُنّرہے جس کے ذریعے شیطان بہ آسانی بہکا کر صحیح اور نیک راستے سے ہٹا سکتا ہے۔ اور لوگوں کو جہنم کی ایندھن بنانے میں کامیاب ہوتا ہے۔ لیکن الله تعالیٰ کے دین کو سچے دل سے قبول کرنے والے کبھی شیطان کے بہکاوے میں نہیں آتے، وہ کسی شک اور نہ ہی کسی اختلافاتِ رائے کو دل میں جگہ دیتے ہیں۔ یہی آخرت کے لئےاُن کی کامیابی کا راز ہوگا۔
مسلمان پیدا ہونے کا سب بڑا فائدہ یہ ہے کہ ہمارے لیے دین اسلام پر چلنا آسان ہے۔ لیکن اگر پھر بھی ہم دینی کاموں سے دور رہے تو ہمارا مقام مسلمان ہو کر نافرمانوں کے لِسٹ میں شُمار کیا جائے گا۔ الله تعالیٰ نے قرآن مجید میں واضع طور پر فرمایا ہے کہ نا فرمانوں کا ٹِھکانہ جہنم ہے۔ اِس سے بہتر وہ غیر مسلم لوگ ہیں جو دِل ہی دِل میں چُوری چُھپے اسلام سے لو لگائے بیٹھے ہیں! شائد یہ کام اُن کی نجات کا سبب بنے گا۔ لیکن آج کل کےمسلمان دُنیا کی محبت میں آخرت کی زندگی کو بُھلائے بیٹھے ہیں۔اوراس پر طرہ یہ کہ ’مذہبی اختلافات‘ میں علماء سے مقابلہ کرتے رہتےہیں۔۔ ۔
ہم سب جانتے ہیں کہ الله تعالیٰ نے ہمارے لئے قرآن مجید کو خاص اُلفت کی وجہ سے آخری پیغمبر حضرت محمد ﷺ پر نازل کیا۔ جس میں واضع کیا گیا کہ دُنیا کے تمام لوگ ایک ہی ماں باپ حضرت آدمؑ اور حضرت حواؑ ہی کے بدن سے پیدا کئے گئے؛اسلام ہی واحد سچا مذہب ہے ۔ لیکن بد قسمتی سے لوگ پھر بھی اس کی تصدیق نہیں کرتے جس وجہ سے لوگ مختلف مذاہب میں بٹے ہوئے ہیں!!
جب لوگ حضورﷺ سے مسائل پُوچھتے،آپﷺ کبھی بھی اپنی ذاتی رائے سے بیان نہ کرتے جب تک نہ فرشتہ الله تعالیٰ کی طرف سے پیغام لے کر آتے۔ اُن دنوں مکہ اور مدینہ منورہ اور آس پاس کے ممالکوں میں انجیل، زبور اور تورات کے بڑے عالم موجود تھے جنہوں نے حضورﷺ سےبہت سخت سوالات کرکے جُھٹلانے کی کوشش کی لیکن اس نتیجے میں سَرزمین عرب میں بہت سے لوگ اسلام کے اندر داخل ہوتےگئے۔ ان معاملات سے ہمیں یہ پَتہ چلتا ہے کہ اسلام کے کسی بھی چُھوٹے سے چھوٹے معاملے میں اپنی ذاتی رائے دینا جائز نہیں۔ اور یہی اختلافات کی جڑ ہے۔
حضرت محمد ﷺ کےبعد خُلفاء رَاشدین اور صحابہؓ نے کمانڈ سنبھال لی جو حقیقت میں جان نِثار اور سچے مسلمان تھے، ہمیشہ بحث کرنے کی بجائے ایک دوسرے سےمسئلہ پوچھتے کبھی بھی کوئی ذاتی رائے نہیں دیتے۔ یہی جان نثاری اور سچائی کا جزبہ ہم لوگوں تک دینِ اسلام پہنچنے کا صحیح ذریعہ بنا۔ اُس کے بعد وقت بدلتا گیا اور حالات نے بھی تبدیلی دکھائی۔ لوگوں نے اپنے اپنے ذاتی مفادات کے لئے اپنے نفسیاتی بنیاد پر مذہبی مسائل کے بارے میں رائے زنی کرتےگئے۔ اختلافات بڑھتے گئے اور لوگ گروہوں میں تقسیم ہوگئے۔
ہمیں چاہیے کہ الله تعالیٰ کی اطاعت اور فرمانبرداری ایسے کریں کہ ہمارے دل کو دُنیا کی محبت میں جو زنگ لگ گیا ہے اُسے پاک کرے۔ ہمیں علم کی جستجو میں اِس طرح مِٹنا یا جلنا چاہیے، جیسے لوہار ایک ہتھیار کو پہلے آگ میں خوب گرم گرتا ہے اور پھر اُس کی دار تیز کرتا ہے اور آخر میں استعمال کے لئے دیتاہے۔ نہ کہ اُس زنگ دار ہتھیار کی طرح جو کسی کام کا نہ ہو
(مصنف کے ساتھ [email protected] پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔ )









