وادی کشمیر میں پچھلے کئی ہفتوں سے درگرگوں موسمی صورتحال بنی ہوئی ہے۔ مئی کے ابتدائی دنوں میں بھی وادی کشمیر میں بارشیں ہوئی وہیں محکمہ موسمیات کے مطابق 8 مئی تک موسم جوں کا توں رہنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ خراب موسم کے باعث وادی میں اب بھی گرم ملبوسات اور کانگڑی سے لوگ الگ نہیں ہوپا آرہے ہیں۔
جموں و کشمیر میں اپریل کے مہینے میں معمول سے 49 فیصد زیادہ بارشیں ریکارڈ کی گئی ہیں وہیں مارچ میں معمول سے 48 فیصد کم بارش ہوئی ہے۔ محکمہ موسمیات کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق کشمیر میں 63 فیصد اور جموں میں 32 فیصد معمول سے زیادہ بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق مارچ کے مہینے میں 48 فیصد معمول سے کم بارش ریکارڈ کی گئی۔ یکم مارچ سے 31 مارچ تک 78.9 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی، جو معمول کے مطابق 152.9 ملی میٹر ریکارڈ ہونی چاہئے تھی۔ اعداد و شمار کے مطابق جموں و کشمیر میں یکم اپریل سے 27 اپریل کے دوران 56.69 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ یہ معمول کے مطابق 16. 38 ملی میٹر ہونی چاہئے تھی۔ اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ وادی میں اس ماہ 35.47 ملی میٹر بارش ہوئی جبکہ معمول کے مطابق یہاں 21.81 ملی میٹر بارش ہونی چاہئے تھی۔ اسی طرح جموں میں 16.35 کے مقابلے میں 21.22 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ اعداد و شمار کے مطابق وادی میں حد سے زیادہ بارش بانڈی پورہ، بڈگام، بارہمولہ اور کپوارہ میں ہوئی ہے، جبکہ ڈوڈہ، ریاسی اور ادھمپور کے اضلاع بھی شامل ہیں۔ اس عرصے کے دوران اننت ناگ ضلع میں 22.4 ملی میٹر بارش ہونی چاہئے تھی، لیکن یہاں 34.9 ملی میٹر بارش ہوئی۔ بانڈی پورہ میں 18.4 ملی میٹر بارش کے مقابلے میں 37.5 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ بارہمولہ میں معمول کے مطابق 26.1 ملی میٹر کے مقابلے میں 48.7 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ گاندربل میں معمول کے مطابق 23.9 ملی میٹر بارش کے مقابلے میں اسی فیصد سے بارشیں ہوئیں۔ کولگام میں معمول کے مطابق 26.8 ملی میٹر کے مقابلے میں 39.3 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ کپوارہ میں 27.6 ملی میٹر کے بجائے 40.9 ملی میٹر ہوئی۔ شوپیان ضلع میں معمول کے مطابق 23.6 ملی میٹر بارش ہونی چاہئے تھی، لیکن یہاں 26.7 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ اسی طرح سرینگر ضلع میں 22.3 ملی میٹر کے مقابلے میں 41.1 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ جموں کے ضلع دوڑہ میں معمول کے مطابق 26.9 ملی میٹر بارش کے مقابلے میں 64.1 ملی میٹر ، ضلع جموں میں 10.1 کے مقابلے میں 5.7 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔ اسی طرح کٹھوعہ ضلع میں بھی معمول سے کم بارش ریکارڈ ہوئی۔ یہاں 13.8 ملی میٹر کے مقابلے میں 8.3 ملی میٹر بارش ہوئی۔ پونچھ ضلع میں 21.5 کے مقابلے میں 15 ملی میٹر ، راجوری میں 10.7 کے مقابلے میں 14 ملی میٹر ، رام بن میں 20.4 ملی میٹر کے مقابلے میں 25.1 ملی میٹر ، ریاسی میں 24.9 ملی میٹر بارش کے مقابلے میں 24.9 ملی میٹر اور اودھمپور میں 21.3 ملی میٹر بارش کے مقابلے میں 26.9 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔
ادھر محکمہ باغبانی کے جوائنٹ ڈائریکٹر ظہور احمد بٹ نے’’ اُمت نیوز‘‘ کے ساتھ بات کرتے ہوئے بتایا کہ باغ مالکان کو گھبرانے کی ضرورت نہیں لیکن انہیں چند باتوں کا خیال رکھنا چاہیے۔ پہلے اگر باغ مالکان 15روز بعد دوائی کا چھڑکاؤ کرتے تھے اب دس روز بعد ہی کریں تاکہ سکیب سے باغ کو بچایا جا سکے وہیں پہلے چھڑکاؤ کی گئی دوائی دوبارہ نہ دہرائیں۔انہوں نے کہا کہ باغ مالکان یہ بھی خیال رکھیںکہ باغ میں پانی جمع نہ ہوپائے۔وہیں انہوں نے کہا کہ باغ مالکان موسم دیکھ کر دوائی کا چھڑکاؤ کریں تاکہ باغ کودوائی کے بعد کم از کم چھ گھنٹے تک دھوپ ملنی چاہیے۔









