14مئی اتوار کی شب گورنمنٹ میڈیکل کالج جموں میں طلبہ کے دو گروپوں کے درمیان آپسی جھگڑے کی خبر سامنے آئی جس میں تین طلبہ زخمی بتائے گئے، جن میں سے حسیب نامی طالبعلم کے سر میں شدید چوٹیں آئیں جو ڈودہ ضلع کا بتایا جارہا ہے۔جس کے بعد اسی رات کشمیری طلبہ کی جانب سے کالج کے احاطے میں شدید احتجاج کرتے ہوئے ملوثین کو سزا دینے کا مطالبہ کیاگیا۔وہیں اسکے اگلے روز پھر سے کشمیری طلبہ نے شدید احتجاج کیا اور پھر جھگڑے کی ساری کہانی بھی بیان کی۔طلبہ نے بتایا کہ گزشتہ رات دونوں گروپوں کے درمیان جھگڑا تب شروع ہوا جب فرسٹ ائر کے آفیشل واٹس ایپ گروپ میں ایک طالبعلم نے ’’دی کیرالا سٹوری‘‘ نامی فلم کا لنک شئیر کیاجس پر ایک کشمیری طالبعلم نے اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ گروپ پڑھائی کی غرض کےلیے بنایا گیا ہے نہ کہ فلم شئیر کرنے کے لیے جس کے بعد فرسٹ ایئر کے طالب علم کو یہ بات ناگوار گزری اور اس نے اپنے سینئر طلبہ کو ساتھ لاکر عارف نامی کشمیری طالبعلم کے ہوسٹل کے کمرے میں گھس کر اسکی پٹائی کرنا شروع کی، اس بیچ دیگر سینئر طلبہ بیچ بچاو کےلیے آئے تاہم یہ لڑائی سینئرزمیں شروع ہوئی اور اس دوران حسیب نامی طالبعلم پر تیز دھار والے ہتھیار سے حملہ کیا گیا جس کے باعث اسکے سر پر شدید چوٹ لگی۔ طلبہ نے مزید الزام لگایا کہ جموں کے طلبہ نے اس دوران باہر کے گنڈوں کو بلایا اور مزید دو کشمیریوں کو زدوکوب کیا گیا۔ اس واقعہ پر ایس ایس پی جموں، چندن کوہلی نے کہا کہ جموں کے جی ایم سی ہاسٹل میں کچھ طلباء اور باہر کے لوگوں کے درمیان ہاتھا پائی کا واقعہ پیش آیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس نے معاملے کا نوٹس لے لیا ہے اور تفتیش جاری ہے۔ جبکہ جموں کشمیر سٹوڈنٹس ایسوسی ایشن نامی تنظیم نے ایک بیان میں کہا کہ جی ایم سی جموں سے پریشان کن اطلاع موصول ہوئی ہیں، جس میں بتایا گیا ہے کہ ’دی کیرالہ اسٹوری‘ کے معاملے پر تازہ جھگڑے کے نتیجے میں کشمیری طلبہ کا ایک گروپ زخمی ہوا ہے۔ ایسوسی ایشن نے کہا،’’ایک طالب علم پر لوہے کی راڈ سے حملہ کیا گیا اور اس کے سر پر 12 ٹانکے لگے ہیں۔‘‘
ادھر اس واقعہ پر سیاسی جماعتوں نے بھی اپنے ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے ایک ٹویٹ کےذریعے تشویش کا اظہارِ کرتے ہوئے کہا کہ ”حکومت ہند فرقہ وارانہ آگ بھڑکانے والی فلموں کے ذریعے تشدد کو فروغ دیتی ہے اور اس کی حوصلہ افزائی کرتی ہے۔ بی جے پی کی حقیر انتخابی منافع کی پیاس بجھانے کے لیے معصوموں کا خون بہایا جا رہا ہے۔ ایل جی سے گذارش ہے کہ وہ نوٹس لیں اور مجرموں کو سزا دیں۔“نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ’’جموں میں کشمیری طلباء کو نشانہ بنانے والی (وائرل) تصاویر انتہائی پریشان کن ہیں۔ جموں و کشمیر پولیس کو اس کا نوٹس لینا چاہیے اور ذمہ داروں کو کیفرکردار تک پہنچانا چاہیے۔ لیفٹیننٹ گورنر انتظامیہ کو اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ اس معاملے کو مقررہ وقت میں حل کیا جائے۔ طلباء کو یقین دلایا جائے کہ سیاست کے بدلے ان کی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔‘‘ پیپلز کانفرنس کے صدر سجاد غنی لون نے ایک ٹویٹ میں کہا” جی ایم سی جموں کا واقعہ قابل مذمت ہے۔ یہ چھوٹے بچے ہیں۔ اور جو افسران انچارج ہیں ان کے گھر ایسے چھوٹے بچے ہیں۔ بس امید ہے کہ اس معاملے کی غیر جانبدارانہ اور انسانی طریقے سے تحقیقات کی جائیں گی۔ میں نے کچھ تصویریں دیکھیں۔ وہ خوفناک ہیں۔ میں ایل جی سے درخواست کرتا ہوں کہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ اصلاحی اقدامات کیے جائیں تاکہ مستقبل میں ایسا دوبارہ نہ ہو۔“
دریں اثنا اس واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے 16 مئی کو گورنمنٹ میڈیکل کالج جموں کے پرنسپل ششی سودان نے بوائز ہاسٹل کے 10 طلباء کو دو ماہ تک معطل کر دیا ہے۔ ’’دی کیرالہ اسٹوری‘‘ نامی فلم پر شروع ہوئے تنازعہ، مار پیٹ معاملے میں انکوائری مکمل ہونے تک ان طلباء کے کلاسز میں جانے پر پابندی عائد کی گئی ہے۔پرنسپل ششی سدھن شرما نے بھی سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس، جموں سے تمام احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی درخواست کی ہے، جس میں ہاسٹل اور کالج کے احاطے کے ارد گرد اضافی پولیس اہلکاروں کی تعیناتی بھی شامل ہے، تاکہ امن و امان کو برقرار رکھنے میں کسی طرح کی کوئی دقت پیش نہ آئے۔
” دی کیرالا سٹوری “فلم کیا ہے؟
یہ فلم 5مئی کو ریلیز ہوئی ہے۔اس فلم میں کیرالہ سے 32 ہزار لڑکیوں کے لاپتہ ہونے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے ۔اس فلم نے طبقوں کو دو دھڑوں میں تقسیم کر دیا ہے۔ ایک طبقہ اس فلم کو پروپیگنڈا قرار دے رہا ہے جبکہ دوسرا طبقہ اسے کیرالہ کی حقیقت بتا رہا ہے۔فلم میں دعوی کیا جارہا ہے کہ کیرالہ کی 32000 لڑکیوں نے اسلام قبول کیا اور شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کی رکن بنیں۔ تاہم رپورٹس کے مطابق ایسا صرف تین خواتین کے ساتھ ہوا ہے ۔ اس فلم نے اب تک 150 کروڑ کی کمائی کی ہے۔جبکہ بی جے پی حکومت والی ریاستوں اتر پردیش، مدھیہ پردیش اور ہریانہ کی حکومتوں نے دی کیرالہ سٹوری کو ٹیکس سےمبرا کر دیا ہے۔وہیں مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی طرف سے ریاست کے چیف سکریٹری کو فلم پر پابندی کو یقینی بنانے کی ہدایت کے بعد اسے ریاست کی تمام اسکرینوں سے ہٹا دیا گیا ہے۔ادھر کیرالہ کے وزیر اعلیٰ پنارائی وجین نے ’دی کیرالہ سٹوری‘ بنانے والوں پر تنقید کی۔ خبرا رساں ادارےپی ٹی آئی کے مطابق انھوں نے کہا کہ فلم ساز ’لو جہاد‘ کا مسئلہ اٹھا کر سنگھ پریوار کے پروپیگنڈے کو آگے بڑھا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ’لو جہاد‘ ایک ایسی اصطلاح ہے جسے عدالتوں، تحقیقاتی ایجنسیوں اور یہاں تک کہ وزارت داخلہ نے بھی مسترد کر دیا ہے۔وزیر اعلیٰ وجین نے کہا ہے کہ فلم کے ٹریلر سے پہلی نظر میں ایسا لگتا ہے کہ اس کا مقصد ریاست کے خلاف پروپیگنڈا اور فرقہ وارانہ تقسیم کرنا ہے۔انھوں نے کہا ’لو جہاد کا مسئلہ ایسا ہے کہ اسے تحقیقاتی ایجنسیوں، عدالتوں اور یہاں تک کہ مرکزی وزارت داخلہ نے بھی مسترد کر دیا ہے۔ یہ مسئلہ اب کیرالہ کے بارے میں اٹھایا جا رہا ہے اور ایسا لگتا ہے کہ اس کا مقصد ریاست کو دنیا کے سامنے بدنام کرنا ہے۔‘انہوں نے کہا کہ ایسی پروپیگنڈا فلم اور اس میں مسلمانوں کو جس طرح دکھایا گیا ہے اسے ریاست میں سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی سنگھ پریوار کی کوششوں سے جوڑا جانا چاہیے۔انھوں نے سنگھ پریوار پر ریاست کی مذہبی ہم آہنگی کو بگاڑنے کی کوشش کرنے کا الزام لگایا۔











