جموںو کشمیر کی گرمائی دارالحکومت سرینگر میں موسم بہار کی آمد کے ساتھ ہی ہزاروں کی تعداد میں غیر مقامی گداگر دیگر کئی ریاستوں سے اُمڈ آتے ہیں۔اور اس لیے آج کل سرینگر کے ہر ایک بازار، بس اڈے، سومو اڈے اور دیگر مارکیٹوں میں گداگروں کی فوج نظرآتی ہے۔ان گداگروں کی تعداد اگرچہ زیادہ تر شہر سرینگر میں ہی پائی جاتی ہے تاہم وادی کے دیگر اضلاع میں بھی یہ گداگر بھیک مانگتے نظر آتے ہیں۔ کشمیر میں کچھ مقامی افراد بھی بھیک مانگتے نظر آتے ہیں اور بھیک مانگنے کی کئی وجوہات بتاتے ہیں ،جیسے علاج کے لیے پیسے جمع کرنا یا پھر جسمانی طور خاص(معذور) ہونے کے باعث وہ کما نہیں سکتے۔لیکن غیر مقامی لوگوں پر اگرنظر ڈالی جائے تو عموماً دیکھا جاتا ہے کہ ایک خاتون جس کے ساتھ کئی بچے ہوتے ہیں‘ دودھ، پانی، کھانا وغیرہ کے لیے لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتی یا یوں کہیے پیچھے پڑھ جاتی ہے! اور ایسا ہر ایک بھیڑ بھاڑ والی جگہ ، ٹریفک سگنل پر نظر آتا ہے۔اسکے علاوہ کئ کمسن معصوم بچوں کو ایسے ہی بھیک مانگتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔بھکاریوں کی جانب سے مسافروں کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے کیوں کہ یہ بھکاری پیسے مانگنے کے لئے راہگیروں کو تنگ کرتے نظر آتے ہیں۔ستم ظریفی یہ ہے کہ اس میں ہر جگہ زیادہ تر 10 سال سے کم عمر کے بچے بھی نظر آتے ہیں جنہیں اسکول میں ہونا چاہیے تھا۔
کچھ روَز قبل سرینگر کے پارمپورہ علاقے میں کئی مقامی و غیر مقامی بچوں جنہیں بھیک مانگنے پر مجبور کیا جا رہا تھا، کو بچا لیا گیا۔چائلڈ پروٹیکشن ویلفیئر ٹیم اور پولیس نے مشترکہ آپریشن کے دوران پارمپورہ علاقے میں ایک مخصوص جگہ پر چھاپہ مارا اور وہاں سے کئی مقامی اور غیر مقامی بچو ں کو بچا لیا گیا۔ میڈیا میں شائع رپورٹس کے مطابق مذکورہ بچوں کو بھیک مانگنے پر مجبور کیا جارہا تھا۔پولیس ذرائع نے اسکی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ اس سلسلے میں کیس درج کرکے تحقیقات شروع کی گئی۔ان کے مطابق ملوثین کے خلاف سخت سے سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ کئی رپورٹس میں یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ ان بچوں کو والدین کے ہمراہ مختلف نامعلوم ایجنسیاں وادی لا کر بھیک منگواتی ہیں اور دن کے حساب سے انہیں بھی کچھ رقم دی جاتی ہے۔لیکن آج تک انتظامیہ یا پھر پولیس اس گروہ کو پکڑ نہیں پائی ہے۔ دوسری طرف سے مقامی لوگوں کے مطابق غیر مقامی معصوم بچے اور خواتین جو بھیک مانگی رہی ہیں یہ دراصل ایک منظم مافیا کا حصہ ہیں جو انہیں باہر سے کشمیر لاتے ہیں اور یہاں بھیک منگواتے ہیں اور پھر دیہاڑی کے طور انہیں پیسے دئے جاتے ہیں۔مقامی لوگوں کے مطابق یہ کروڑوں کا کاروبار ہے جو یہاں انتظامیہ کی ناک کے نیچے پھل پھول رہا ہے۔
اگرچہ 2018میں سرینگر انتظامیہ نے مذہبی مقامات اور پبلک جگہوں پر بھیک مانگنے پر پابندی عائد کی تھی تاہم انتظامیہ کی جانب سے جاری حکمنامہ پر کہیں بھی زمینی سطح پر عمل ہوتا دیکھائی نہیں دیا۔ اور آج بھی سینکڑوں کی تعداد میں گداگروں کو سڑکوں، شاپبک سینٹرزز، پٹرول ا سٹیشنوں، مسجدوں کے باہر، زیارتوں، خانقاہوں، بس اڈوں اور ٹریفک سگنلز پر کھڑے دیکھا جا سکتا ہے۔ سرینگر کے بٹہ مالو سے تعلق رکھنے والے مقامی کاروباری محمدایوب کہتے ہیں کہ” انتظامیہ کی جانب سے حالیہ کارروائی محض دکھاوا نظر آرہی ہے کیوں کہ اس وقت بھی سینکڑوں معصوم بچے سڑکوں پر بھیک مانگتے نظر آرہے ہیں، انتظامیہ انہیں کیوں نہیں پکڑ رہی اور اس مافیا تک کیوں نہیں پہنچتی جو انہیں یہاں لاکر اپنا دھندا چلا رہے ہیں۔“
اعدادوشمار کے مطابق بھارت میںتقریباً 8 1لاکھ افراد بے گھر ہیں یعنی جو کھلے آسمان تلے اپنی زندگی گزار رہے ہیں۔وہیں 2011مردم شماری کے مطابق بھارت میں 4لاکھ سے زائد بھکاری ہیں جن میں سب سے زیادہ اکیاسی ہزار مغربی بنگال سے ہیں۔جبکہ جموں وکشمیر میں کل تعداد اکتالیس سو بتائی گئی ہے تاہم آج اسکی تعداد میں کئی سو گنا کا اضافہ ہوا ہوگا جس کے اعدادوشمار ابھی تک سامنے نہیں آئے ہیں۔انسانی اسمگلنگ کے متعلق ڈیٹا اکھٹا کرنے والی تنظیم’’فریڈم پروجیکٹ انڈیا‘‘ کی جانب سے 2016 میں جاری اعدادوشمار میں بتایا گیا کہ بھارت میں تین لاکھ بچے نشہ کروائے جاتے ہیں انکی پٹائی کی جاتی ہے اور بھیک منگوائے جاتے ہیں۔یوں یہ ایک ملٹی ڈالر انڈسٹری ہے جسے بڑے گینگ چلا رہے ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بچوں کو بعض اوقات زیادہ ہمدردی حاصل کرنے اور زیادہ خیرات حاصل کرنے کے لیے معذور کیا جاتا یا جسم کے اعضاء جلا دیئے جاتے ہیں اور یہ پیسہ عام طور پر اسمگلروں کو یا شراب اور منشیات خریدنے کے لیے ادا کیا جاتا ہے۔ادھر قومی انسانی حقوق کمیشن کے مطابق ملک میں ہر سال 40,000 بچوں کو اغوا کیا جاتا ہے جن میں سے کم از کم 11,000 بچوں کا سراغ نہیں مل پاتا۔










