• Policy
  • Contact Us
  • About Us
  • Home
ePaper
جمعرات, جنوری ۲۲, ۲۰۲۶
Ummat News
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر
No Result
View All Result
Ummat News
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر
No Result
View All Result
Ummat News
No Result
View All Result
واشنگٹن سیب کی درآمدی محصولات میں کمی: کشمیر کی میوہ صنعت متاثر ہونے کا شدید خدشہ!

واشنگٹن سیب کی درآمدی محصولات میں کمی: کشمیر کی میوہ صنعت متاثر ہونے کا شدید خدشہ!

رضوان سلطان

by امت ڈیسک
13/07/2023
A A
Share on FacebookShare on TwitterWhatsappTelegramEmail

جموں و کشمیر کی معیشت کےلیے ریڈ کی ہڈی سمجھی جانے والی سیب کی صنعت پچھلے کچھ سالوں سے مشکل دور سے گزر رہی ہے اور اب رواں سال ایک اور بری خبر اس صنعت کےلیے تب آئی جب مرکزی سرکار کی جانب سے امریکہ سے درآمد ہونے والے سیب کے میوے سے 20 فیصد درآمدی ڈیوٹی کم کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ جس سے میوہ بیوپاریوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ دراصل 2018میں امریکہ نے ہندوستان سے برآمد ہونے والے اسٹیل پر 25 فیصد اور ایلومینیم پر 10 فیصد امپورٹ ڈیوٹی بڑھا دی تھی۔ ان شرحوں کی وجہ سے ہندوستان پر 24 کروڑ ڈالر یعنی تقریباً 1650 کروڑ روپے سالانہ کا اضافی بوجھ پڑاتھا۔ہندوستان ہر سال تقریباً 10 ہزار کروڑ روپے کے اسٹیل اور ایلومینیم مصنوعات امریکہ کو برآمدکرتا ہے۔اسکے جواب میں انتقامی کارروائی کے طور حکومت ہند نے 2019میں 28 مصنوعات پر 20فیصد ڈیوٹی ٹیکس بڑھایا جس میں سیب بھی شامل ہے۔ تاہم اسے واپس لینے کا فیصلہ حال ہی میں وزیر اعظم نریندر مودی نےدورہ امریکہ کے دوران صدر جو بائیڈن کیساتھ ملاقات کے دوران لیاہے۔ تاہم ادھر کشمیر سے لے کر ہماچل پردیش تک کے بیوپاریوں کا ماننا ہے کہ اس سے اب یہاں کے سیب پر اثر پڑے گا۔

کشمیر ویلی فروٹ گرورس کم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین بشیر احمد بشیر کا کہنا ہے کہ” کشمیر کے میوہ کاشتکاروں اور بیوپاریوں کو خدشہ ہے کہ درآمدی ڈیوٹی میں 20 فیصد کمی سے ہندوستانی منڈیوں میں واشنگٹن سیب کی درآمد میں نمایاں اضافہ ہوگا، جس سے گھریلو سیب کے لیے جگہ کم ہو جائے گی“۔ ادھرسنیکت کسان منچ کے کنوینر ہریش چوہان نے کہاکہ ’’واشنگٹن سیب ایک اعلیٰ قسم کا پھل ہے۔ 70فیصد درآمدی ڈیوٹی نے اسے ایک مختلف لیگ میں دھکیل دیا جہاں اس نے پریمیم ہندوستانی سیب کا مقابلہ نہیں کیا۔ تاہم، درآمدی ڈیوٹی میں کمی کے ساتھ، اس کی قیمت تقریباً اتنی ہی ہوگی اور اس وجہ سے ہندوستانی منڈیوں میں گھریلو سیبوں کو شدید نقصان پہنچے گا۔‘‘

ان خدشات کی روشنی میں کشمیر ویلی فروٹ گروورز کم ڈیلرز یونین نے ایل جی منوج سنہا اور انتظامیہ کے دیگر اعلیٰ سطحی عہدیداروں سے مداخلت کی اپیل کی ہے اور ان پر زور دیا ہے کہ وہ اس معاملے کو حکومت ہند کے متعلقہ حلقوں کے ساتھ اٹھائیں اورواشنگٹن سیب پر درآمدی ڈیوٹی کو کم کرنے کے فیصلے کو فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ پروگریسو گروورس ایسوسی ایشن کے صدر لوکیندر بشت کا کہنا ہے کہ” درآمد شدہ امریکی سیب ستمبر کے آس پاس مارکیٹ میں آئے گا، جب مقامی سیب کی مارکیٹنگ کی جائے گی۔ اگر ہمارے سیب کی قیمت زیادہ ہوگی تو لوگ واشنگٹن کا سیب خریدیں گے۔“بشت نے مزید کہا کہ مرکزی حکومت کو اپنے فیصلے پر نظرثانی کرنی چاہئے اور درآمدی ڈیوٹی کو 70 فیصد پر بحال کرنا چاہئے۔ادھر ہماچل پردیش کے وزیر اعلی سکھویندر سنگھ سکھو نے پیر کو واشنگٹن ایپل پر درآمدی ڈیوٹی کو کم کرنے کے مرکز کے فیصلے پر تنقید کی اور کہا کہ یہ سیب کے کاشتکاروں کے مفادات کے لیے نقصان دہ ہے جو مسلسل درآمدی ڈیوٹی میں 70 سے 100 فیصد تک اضافے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔انہوں نے جاری ایک بیان میں کہاکہ’’امپورٹ ڈیوٹی بڑھانے کے بجائے، مرکزی حکومت نے واشنگٹن سیب پر درآمدی ڈیوٹی میں 20 فیصد کمی کی ہے جو کہ سیب کے کاشتکاروں کے مفادات کے خلاف ہے اور اس سے سیب کی معیشت متاثر ہوگی۔‘‘

تاہم دوسری طرف سے مرکزی سرکار کا ماننا ہے کہ اس سے یہاں کے کسانوں پر کوئی اثر نہیں پڑنے والا۔ایک سینئر سرکاری اہلکار نے کہا کہ درآمد شدہ امریکی سیبوں پر 20 فیصد جوابی کسٹم ڈیوٹی ہٹانے کے فیصلے کا ہندوستانی کسانوں پر ’’صفر‘‘ اثر پڑے گا کیونکہ حکومت کے پاس کاشتکاروں کی مدد کرنے کے لئے کافی پالیسی کی جگہ ہے اگر اس اقدام کا کوئی اثر ہوتا ہے۔ محکمہ تجارت میں ایڈیشنل سیکریٹری پیوش کمار نے کہا کہ ہندوستان اس ڈیوٹی کو ہٹا کر’’اضافی‘‘ کچھ نہیں دے رہا ہے اور ایسا نہیں ہے کہ’’ہم نے امریکی سیبوں کے لئے فلڈ گیٹ کھول دیا ہے۔‘‘ درحقیقت، یہ ہندوستان کے لیے ایک جیت کا سودا ہے کیونکہ یہ امریکی مارکیٹ میں گھریلو اسٹیل اور ایلومینیم مصنوعات کے لیے مارکیٹ تک رسائی کو بحال کرتا ہے، جو کہ 2018 میں امریکہ کی جانب سے اضافی ڈیوٹی کے نفاذ کی وجہ سے متاثر ہوا تھا۔تاہم دوسری طرف سے اگر اعدادوشمار پر نظر ڈالیں تو امریکہ سے سیب کی درآمد 19-2018 میں 145 ملین امریکی ڈالر (127,908 ٹن) سے کم ہو کر 23 -2022 میں صرف 5.27 ملین امریکی ڈالر (4,486 ٹن) رہ گئی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی سیب پر اضافی جوابی درآمدی ڈیوٹی عائد کرنے کی وجہ سے امریکی سیب کا مارکیٹ شیئر دوسرے ممالک نے لے لیا، کیونکہ امریکہ کے علاوہ دیگر ممالک سے درآمدات 160 ملین امریکی ڈالر سے بڑھ کر 19-2018 میں 290 ملین امریکی ڈالر تک پہنچ گئیں۔درآمدی منڈی کے حصے میں امریکہ کا درآمدی حصہ ترکی، چلی، نیوزی لینڈ اور اٹلی جیسے ممالک نے لیا۔لیکن اب امریکہ کے میوے پر بھی فی کلو 50 روپیے ٹیکس ڈیوٹی عائد ہوگی۔جس سے یہاں کا میوہ متاثر ہو سکتا ہے۔تاجروں کے مطابق گزشتہ سال واشنگٹن کا میوہ70فیصد ٹیکس کے ساتھ 180 سے220روپے فروخت ہوتا تھا جبکہ کشمیری سیب 120سے 180 روپے فروخت ہوا۔لیکن اب ٹیکس کم ہونے کے بعد واشنگٹن سے میوہ بھی زیادہ آئے گا اور اور اسکی کم قیمت بھی ہوگی جس کا سیدھا اثر یہاں کے میوے پر پڑے گا۔جنوبی بھارت میں سب سے زیادہ 40 فیصد میوہ کشمیر کا ہی فروخت ہو تا ہے اور اب امریکہ کے میوے کا اثر بھی اس پر پڑنے والا ہے۔

اعدادوشمار کے مطابق اس وقت پورے ملک میں سالانہ 2437میٹرک ٹن سیب کی پیداوار ہوتی ہے جس میں سے 70 فیصد پیداوار جموںو کشمیر سے ہوتی ہے۔اس شعبے کیساتھ تقریباً 7لاکھ کنبے یا 33 لاکھ افراد جڑے ہوئے ہیں۔اسی شعبے سے جموں وکشمیر کی معیشت کا سات فیصدی حصہ آتا ہے۔اور ہر سال یہاں کی پیداوار میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

Related

ShareTweetSendShareSendShare
Previous Post

بے گھر لوگوں کو زمینیں الارٹ کرنے کا اعلان:حکومت کا دعوی کہ یہ تاریخی اعلان ہے جبکہ حزب اختلاف کا شکوک و شبہات کا اظہار

Next Post

کشتواڑ میں دومدارس سیل:کیا مقامی انتظامیہ نے عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کی ہے؟

امت ڈیسک

امت ڈیسک

Related Posts

کشمیری شال فروشوں پر حملوں کے خلاف انجینئر رشید کے ہماچل اور اتراکھنڈ کے وزرائے اعلیٰ کو خطوط

25/12/2025
فوج کی سوشل میڈیا پالیسی میں ترمیم، انسٹاگرام صرف دیکھنے کی اجازت

فوج کی سوشل میڈیا پالیسی میں ترمیم، انسٹاگرام صرف دیکھنے کی اجازت

25/12/2025

14/12/2025
سری نگر کے بزرگ شہری دہلی میں لاپتہ، اہلِ خانہ کی حکام سے مدد کی اپیل

سری نگر کے بزرگ شہری دہلی میں لاپتہ، اہلِ خانہ کی حکام سے مدد کی اپیل

08/12/2025
جموں و کشمیر میں نیشنل لا یونیورسٹی آئندہ سال اپریل سے شروع ہونے کی امید: وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ

جموں کشمیر کا ہر ایک شہری دہشت گرد نہیں : عمر عبداللہ

13/11/2025
ایل جی سنہا کا کشمیری نوجوانوں سے خطاب: ’استعماری ذہنیت ترک کرکے مادری زبان اپنائیں‘

ریاستی درجہ کے بہانے عوام کو بے وقوف بنانا بند کریں: ایل جی کہ عمر پر تنقید

31/10/2025
Next Post
کشتواڑ میں دومدارس سیل:کیا مقامی انتظامیہ نے عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کی ہے؟

کشتواڑ میں دومدارس سیل:کیا مقامی انتظامیہ نے عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کی ہے؟

آرٹیکل 370 کی منسوخی :اب ہوگی سپریم کورٹ میں روزانہ کی بنیاد پر سنوائی؛ اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا سب کو ہے انتظار۔۔۔

آرٹیکل 370 کی منسوخی :اب ہوگی سپریم کورٹ میں روزانہ کی بنیاد پر سنوائی؛ اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا سب کو ہے انتظار۔۔۔

جموں و کشمیر میں مرکزی حکومت کے  پانچ سال مکمل۔۔۔

بجلی کے اسمارٹ میڑز کی تنصیب: عوام نالاں کیوں؟

یونیفارم سول کوڈ: ملت کے لئے ناقابل قبول اور ملک کے لئے نقصاندہ!

یونیفارم سول کوڈ: ملت کے لئے ناقابل قبول اور ملک کے لئے نقصاندہ!

اٹلی کی جھیل کے بعد جاپان کا دریا بھی سبز ہوگیا

اٹلی کی جھیل کے بعد جاپان کا دریا بھی سبز ہوگیا

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • Policy
  • Contact Us
  • About Us
  • Home

© Designed By Gabfire.in - UMMAT NEWS

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر

© Designed By Gabfire.in - UMMAT NEWS

Translate »