امت نیوز ڈیسک //
سرینگر: جموں و کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی سربراہ محبوبہ مفتی نے جمعہ کی شام دعویٰ کیا ہے کہ جموں و کشمیر پولیس نے اُن کی پارٹی کے ایک رہنما کو حراست میں لیا ہے۔ سماجی رابطہ کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اس حوالے سے سوال کرتے ہوئے محبوبہ مفتی نے کہا ہے کہ "پانچ اگست کے موقع پر جموں و کشمیر پولیس پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے لیڈر کو کیوں زیر حراست لے رہی ہے‘‘۔؟
اپنے ٹویٹ کے ساتھ ایک ویڈیو شیئر کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ "اس ویڈیو میں عارف لیگرو کو پولیس لے جارہی ہے۔ وہیں بھارتیہ جنتا پارٹی کو سرینگر میں دفعہ 370 کی غیر قانونی منسوخی کا جشن منانے کا تماشا کرنے کی کھلی چھوٹ دی گئی ہے۔” اُن کا مزید کہنا تھا کہ”یہ سب کچھ ملک میں رائے عامہ کو گمراہ کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔ اس سب سے ان کے غیر قانونی اقدامات کو جواز فراہم کرنے کے لئے حالات معمول پر ہونے (normalcy) کے فرضی بیانیہ کو بے نقاب کرتا ہے۔”
واضح رہے کہ آج پارٹی کے ترجمان نے دعویٰ کیا تھا کہ اُنہوں نے ضلع انتظامیہ سے پانچ اگست کے موقع پر ایک سیمینار منعقد کرنے کے غرض سے اجازت طلب کی تھی تاہم اجازت نہیں دی گئی۔ واضح رہے کہ پانچ اگسٹ 2019 کو ہی مرکزی حکومت کی جانب سے دفعہ 370 کو منسوخ کرکے جموں و کشمیر کو تین مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں تبدیل کردیا گیا تھا۔ اس فیصلے کے خلاف کشمیر کے تمام سیاسی پارٹیوں کے رہنماؤں نے شدید برہمی کا اظہار کیا تھا۔
واضح رہے پی ڈی پی کی جانب سے دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ عارف لاگرو کے علاوہ ترجمان اعلی سہیل بخاری اور روف بٹ کو پولیس نے حراست میں لے لیا ہے ۔








