• Policy
  • Contact Us
  • About Us
  • Home
ePaper
پیر, جنوری ۲۶, ۲۰۲۶
Ummat News
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر
No Result
View All Result
Ummat News
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر
No Result
View All Result
Ummat News
No Result
View All Result
370 آرٹیکل 370 معاملے پر سپریم کورٹ میں گیارہ جولائی کو سماعت

یہ کہنا مشکل ہے کہ دفعہ 370 کو کبھی منسوخ نہیں کیا جاسکتا : سپریم کورٹ

by امت ڈیسک
10/08/2023
A A
Share on FacebookShare on TwitterWhatsappTelegramEmail

امت نیوز ڈیسک //
نئی دہلی: سپریم کورٹ نے جمعرات کو دفعہ 370کی منسوخی کے خلاف دائر کی گئی عرضیوں کی سماعت کے دوران مشاہدہ کیا کہ ’’جموں اور کشمیر کی خودمختاری مکمل طور پر بھارتی یونین میں ضم کر دی گئی ہے اور آئین میں مختلف پہلوؤں کی موجودگی کے باوجود یونین (آف انڈیا) کی خودمختاری اور سالمیت متاثر نہیں ہوتی ہے۔‘‘ سپریم کورٹ نے زبانی طور پر یہ بھی ریمارکس دیئے کہ ’’یہ کہنا مشکل ہے کہ دفعہ 370 کو کبھی بھی منسوخ نہیں کیا جا سکتا۔‘‘چیف جسٹس آف انڈیا کی سربراہی میں پانچ ججوں کی آئینی بنچ جس میں جسٹس ایس کے کول، سنجیو کھنہ، بی آر گاوائی اور سوریہ کانت شامل ہیں، سابق ریاست جموں و کشمیر کو خصوصی آئینی حیثیت دینے والی آرٹیکل 370 کی منسوخی کو چیلنج کرنے والی درخواستوں کی سماعت کر رہی ہے۔ بنچ نے عرضی گزاروں میں سے ایک کی نمائندگی کرنے والے جموں و کشمیر کے سینئر ایڈوکیٹ ظفر شاہ کو بتایا کہ ’’آئین کا آرٹیکل 1 کہتا ہے کہ ہندوستان – ‘ریاستوں کا اتحاد ہے اور اس میں ریاست جموں و کشمیر بھی شامل ہے، اور اس لحاظ سے (ہندوستان کی) خودمختاری مکمل ہے۔چیف جسٹس نے کہا: ’’ہندوستان کے ساتھ خودمختاری کی کوئی بھی مشروط خودسپردگی نہیں۔ خودمختاری صحیح معنوں میں ہندوستان کے یونین کے ساتھ متصل ہو جانے کے بعد صرف قانون سازی کے لیے پابندی کا اطلاق باقی رہتا ہے، جو پارلیمنٹ کے اختیار میں ہے۔ چند پابندیاں جو باقی رہ جاتی ہیں۔۔۔۔‘‘چیف جسٹس نے کہا کہ 1972 کی آئینی درخواست کے آرڈر میں ایک بہت ہی دلچسپ شق ہے، جو 1972 میں آئی، جب آرٹیکل 248 میں ریاست جموں و کشمیر کے حوالہ سے ترمیم کی گئی تھی اور 248 متبادل بنا (دیگر تمام ریاستوں کو قانون سازی کے اختیارات فراہم کرنے میں)۔ چیف جسٹس نے کہا، ’’اب اس (آرٹیکل) کی رو سے پارلیمنٹ کو ہندوستان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کو مسترد کرنے، اس کی سالمیت پر سوال اٹھانے یا اس میں خلل ڈالنے والی سرگرمیوں کی روک تھام کے لئے کوئی بھی قانون بنانے کا خصوصی اختیار ہے۔ لہٰذا، 1972 کا حکم یہ بناتا ہے کہ… اس میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے کہ خودمختاری صرف یونین آف انڈیا کو حاصل ہے۔ اس لیے انسٹرومنٹ آف ایکسیشن (1947) کے بعد خودمختاری کا کوئی نشان باقی نہیں رہا۔‘‘

بنچ نے کہا کہ آرٹیکل 248 اب بھی لاگو ہے، جیسا کہ یہ 5 اگست 2019 سے پہلے جموں و کشمیر پر لاگو ہوتا تھا اور اس میں ہندوستان کی خودمختاری کی بالکل واضح قبولیت شامل ہے۔ جسٹس کھنہ نے شاہ سے استفسار کیا ’’کون سا آئین برتر ہے، ہندوستان کا (یا جموں و کشمیر کاآئین)؟‘‘ شاہ نے جواب دیا، ’’یقینا، ہندوستانی آئین۔‘‘

واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے سے سپریم کورٹ میں دفعہ 370کی منسوخی کو چیلنج کرنے والی درخواستوں کی سماعت شروع ہوئی جو جمعرات کو بھی جاری رہی۔ جمعرات کو جموں و کشمیر کے سینئر ایڈوکیٹ ظفر شاہ نے اپنے دلائل سپریم کورٹ میں بیان کیے۔ قبل ازیں سینئر ایڈوکیٹ کپل سبل نے بھی اپنے اعتراضات سپریم کورٹ کے سامنے پیش کیے۔ قابل ذکر ہے کہ پانچ اگست 2019کو بی جے پی حکومت نے جموں و کشمیر تنظیم نو قانون پارلیمنٹ میں پاس کرکے جموں و کشمیر کو حاصل خصوصی آئینی حیثیت دفعہ 370کو منسوخ کر دیا۔ آرٹیکل کی منسوخی کے بعد کئی افراد، سیاسی تنظیموں نے اس کی کے خلاف سپریم کورٹ میں عرضیاں دائر کیں۔ قریب چار برس تک اس معاملے پر مکمل خاموشی اختیار کرنے کے بعد سپریم کورٹ نے دو اگست 2023سے سبھی عرضیوں کی سماعت کا آغاز کیا۔

Related

ShareTweetSendShareSendShare
Previous Post

سری نگرمیں تاریخی گھنٹہ گھر پر ترنگا نصب

Next Post

تحریک عدم اعتمادناکام، کس نے کیا کہا؟

امت ڈیسک

امت ڈیسک

Related Posts

یومِ جمہوریہ محض پریڈز تک محدود نہیں ہونا چاہیے، آئین کا تحفظ ضروری: محبوبہ مفتی

یومِ جمہوریہ محض پریڈز تک محدود نہیں ہونا چاہیے، آئین کا تحفظ ضروری: محبوبہ مفتی

26/01/2026
جموں و کشمیر میں یوم جمہوریہ تقریب کا انعقاد، ایل اجی منوج سنہا کا یوٹی کی سلامتی اور ترقی پر زور

جموں و کشمیر میں یوم جمہوریہ تقریب کا انعقاد، ایل اجی منوج سنہا کا یوٹی کی سلامتی اور ترقی پر زور

26/01/2026
پاکستان کی کشمیر کو غیر مستحکم کرنے کی کوششیں ناکام: نائب وزیر اعلیٰ

پاکستان کی کشمیر کو غیر مستحکم کرنے کی کوششیں ناکام: نائب وزیر اعلیٰ

26/01/2026
کشتواڑ کے سنگھ پورہ علاقے میں سیکورٹی فورسز اور ملی ٹینٹوں کے درمیان تصادم

کشتواڑ کے جنگلات میں تازہ تصادم، فائرنگ کا تبادلہ جاری

26/01/2026
نیشنل کانفرنس نے میاں الطاف کو اننت ناگ-راجوری سیٹ کے لیے لوک سبھا امیدوار نامزد کیا

میاں الطاف کی بجبہاڑہ–پہلگام ریلوے لائن کی مخالفت کرنے والے دیہاتیوں کی حمایت

25/01/2026
نائب وزیر اعلیٰ جموں و کشمیر کی سرمائی تیاریوں میں ناکامی پر افسران کو سخت وارننگ

نائب وزیر اعلیٰ جموں و کشمیر کی سرمائی تیاریوں میں ناکامی پر افسران کو سخت وارننگ

25/01/2026
Next Post
تحریک عدم اعتمادناکام، کس نے کیا کہا؟

تحریک عدم اعتمادناکام، کس نے کیا کہا؟

راجوری حملے کے بعد سی آر پی ایف کی 18 اضافی کمپنیاں جموں کشمیر بھیجے کا فیصلہ

ترن تارن میں بی ایس ایف نے درانداز کو مار گرانے کا کیا دعویٰ

گجراتی ٹھگ کرن پٹیل کے خلاف ساتواں دھوکہ دہی کیس درج

گجراتی ٹھگ کرن پٹیل کے خلاف ساتواں دھوکہ دہی کیس درج

مسعودی نے عارضی ملازمین کی تنخواہی تفاوت اور مستقلی کا معاملہ اٹھایا

مسعودی نے عارضی ملازمین کی تنخواہی تفاوت اور مستقلی کا معاملہ اٹھایا

جموں کشمیر میں جنگجوئیت کم ترین سطح پر ہے :دلباغ سنگھ

یوم آزادی کے پیش نظر سکیورٹی فورسز کی تیاریاں جاری: ڈی جی پی

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • Policy
  • Contact Us
  • About Us
  • Home

© Designed By Gabfire.in - UMMAT NEWS

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر

© Designed By Gabfire.in - UMMAT NEWS

Translate »