نیشنل کانفرنس کے بانی شیخ محمد عبداللہ جموں وکشمیر کی ایک ایسی شخصیت کا نام ہےجس نے اس سابقہ ریاست کا بھارت کیساتھ الحاق میں مرکزی کردار ادا کیا ہے۔ 1951 کی پہلی قانون ساز اسمبلی میں اپنے خطاب کے دوران بھارت کیساتھ الحاق کے بعد والے کشمیر کو شیخ محمدعبداللہ نے’’نیا کشمیر‘‘ قرار دے کر پاکستان کے بجائے بھارت کے ساتھ الحاق کے جواز بھی پیش کئے۔سپریم کورٹ میں جاری 370 کی سماعت کے دوران اس خطاب کی تعریف بھی چیف جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ نے کی۔ لیکن ادھردوسری طرف سے جموں وکشمیر یونین ٹریٹری انتظامیہ شیخ محمدعبداللہ کو اس سابقہ ریاست کی تاریخ سے پوری طرح حذف کرنےکی راہ پر ہے۔
اس ضمن میں شیخ محمد عبداللہ کے نام سے منسوب سرینگر کے بلوارڈ روڈ پر واقع مشہور و معروف ایس کے آئی سی سی یعنی شیر کشمیر انٹرنیشنل کنونشن سینٹرسے ’’شیر‘‘ کی اصطلاح کو حذف کر لیا گیا ہے۔ 13 اگست کو ایل جی منوج سنہا کی سربراہی میں کنونشن سینٹر سے بوٹنیکل گارڈن تک ترنگا ریلی نکالی گئی۔تاہم ایل جی آفس کی جانب سے اس تقریب کے متعلق جاری بیان میں’’ایس کے آئی سی سی‘‘ کی بجائے کئی بار’’کے آئی سی سی‘‘ لکھا گیا تھا۔واضح رہےجموں و کشمیر کے سابق وزیر اعظم و وزیر اعلیٰ مرحوم شیخ محمد عبداللہ کے اعزاز میں ’شیر‘ کا لقب کئی عمارتوں اور اداروں کو دیا گیا ہے جن میں ایس کے آئی سی سی بھی شامل تھا۔ وہیں ان میں صورہ میں سکمز یعنی شیر کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کیساتھ شیر کا لفظ موجود ہے۔ کے آئی سی سی کے متعلق نام تبدیل کرنے کی خبریں اگرچہ 2020میں بھی سامنے آئی تھیں تاہم سرکاری بیان کوئی جاری نہیں ہوا تھا۔
سیاسی جماعتوں کا ردعمل
سماجی رابطہ گاہ ایکس (سابقہ نام ٹوئٹر) پر سیاسی جماعتوں کے لیڈران نے اس فیصلے کی شدید مخالفت کی ہے۔ نیشنل کانفرنس کے ترجمان عمران نبی ڈار نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ ’’جموں و کشمیر کی تاریخ کو مٹانے کے لیے حکومت کا یہ اٹل عزم مجھے حیران کر رہا ہے۔ کسی کو انہیں یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ شیر کشمیر کا نام ہمیشہ ہمارے دلوں میں پیوست رہے گا، چاہے یہ (سرکار) کچھ بھی کر لے۔‘‘
سی پی آئی (ایم) کے ریاستی جنرل سیکریٹری،محمد یوسف تاریگامی نے اس فیصلے کو ’’جموں و کشمیر کے ماضی کو مٹانے کی کوشش‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’’نام تبدیل کرنے کے بجائے انتظامیہ کو بے روزگاری اور بڑھتی ہوئی قیمتوں جیسے مسائل پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔‘‘ تاریگامی کے مطابق ’’شیر کشمیر انٹرنیشنل کنونشن سینٹر (ایس کے اائی سی اسی) کے نام سے ’شیر‘ کا لقب ہٹانا اس بات کی عکاسی ہے کہ سرکار بے روزگاری، صحت عامہ، مہنگائی اور اس طرح کے دیگر اہم مسائل کو حل کرنے کے بجائے جموں و کشمیر کی تاریخ کو مٹانے میں زیادہ سنجیدہ ہے۔ سرکار اہم سڑکوں اور عمارتوں کا نام بدل کر تاریخ کے بعض پہلوؤں کو ختم کرنے کی مسلسل کوششیں کر رہی ہے۔‘‘ ادھر این سی کے نائب صدر عمر عبداللہ اور پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی کی جانب سے اس معاملے پر کوئی ردعمل نہیں آیا ہے۔
شیخ محمد عبداللہ کا الحاق میں کردار
کنونشن سینٹر سے شیر کا لقب ہٹانے کا فیصلہ ایسے وقت میں آیا جب چیف جسٹس آف انڈیا ڈی وائی چندرچوڑ نے سپریم کورٹ میں دفعہ 370 کی سماعت کے دوران شیخ محمد عبداللہ کی بصیرت کی تعریف کی۔چیف جسٹس نے کہا کہ شیخ محمد عبداللہ کا سنہ 1951 میں قانون ساز اسمبلی میں خطاب جموں و کشمیر کو یونین آف انڈیا کے ساتھ ضم کرنا انکا تاریخی فیصلہ تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ مثبت سوچ اور دور اندیشی شیخ محمد عبداللہ کی قدآور شخصیت بیان کرتی ہے۔ وہ ایک عظیم اور دو اندیش رہنما تھے۔یاد رہے1951 میںریاست کے(تب کے) وزیر اعظم شیخ عبداللہ نے پہلی قانون ساز اسمبلی میں خطاب کیا تھا۔لمبے خطاب میں انہوں نے الحاق کے بعد والے کشمیر کو نیا کشمیر قرار دے کر کہا تھا کہ” اس کے حق میں جو سب سے مضبوط دلیل پیش کی جا سکتی ہے وہ یہ ہے کہ پاکستان ایک مسلم ریاست ہے، اور ہمارے لوگوں کی ایک بڑی اکثریت مسلمان ہونے کے ناطے ریاست کو پاکستان سے الحاق کرنا چاہیے۔ مسلم ریاست ہونے کا یہ دعویٰ یقیناً محض ایک بہروپ کی شکل ہے۔ یہ عام آدمی کو دھوکہ دینے کا ایک پردہ ہے، تاکہ اسے صاف نظر نہ آئے کہ پاکستان ایک جاگیردارانہ ریاست ہے جس میں ایک گروہ اپنے آپ کو اقتدار میں رکھنے کے لیے ان طریقوں سے کوشش کر رہا ہے۔“ وہیں انہوں نے کہا کہ ”ریاست کا اصل کردار اس کے آئین میں ظاہر ہوتا ہے۔ ہندوستانی آئین نے ملک کے سامنے سیکولر جمہوریت کا ہدف رکھا ہے جس کی بنیاد انصاف، آزادی اور بلا امتیاز سب کے لیے برابری ہے۔ یہ جدید جمہوریت کی بنیاد ہے۔اس سے یہ دلیل ملنی چاہیے کہ کشمیر کے مسلمانوں کو ہندوستان میں تحفظ حاصل نہیں ہو سکتا جہاں آبادی کی بڑی اکثریت ہندوؤں کی ہے۔ مذہبی گروہوں کے درمیان کوئی بھی غیر فطری دراڑ سامراج کی میراث ہے اور کوئی بھی جدید ریاست ترقی اور خوشحالی کے حصول کے لیے مصنوعی تقسیم کی حوصلہ افزائی کرنے کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ ہندوستانی آئین نے مذہبی ریاست کے تصور کو کافی حد تک اور آخر کار مسترد کر دیا ہے، جو قرون وسطیٰ کے لیے ایک جھٹکا ہے، تمام شہریوں کے ان کے مذہب رنگ، ذات اور طبقے کے لحاظ سے برابری کے حقوق کی ضمانت دے کر“۔1948 مین انکی جانب سے دئے گئے بیان میں وہ کہتے ہیں کشمیر ی اس عظیم ملک کا حصہ سمجھتے ہیں اور جس طرح اس نے مصبیت کے وقت ہمارا ساتھ دیا وہ ہم کبھی نہیں بھولیں گے۔جبکہ 1948 میں شیخ عبداللہ نے اقوام متحدہ میں بھارت کا دفاع کرتے ہوئے قبائلی حملے پر تنقید کی۔انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان آگے آتا ہے اور کہتا ہے، ’’ہم الحاق کی قانونی حیثیت پر سوال اٹھاتے ہیں‘‘، میں اس مسئلہ پر بات کرنے کے لیے تیار ہوں کہ جموں و کشمیر کا ہندوستان سے الحاق قانونی تھا یا نہیں۔ تاہم، اب وہ کہتے ہیں، ’’ہم استصواب رائے چاہتے ہیں؛ ہم کشمیر کے لوگوں کی آزاد اور غیر متزلزل رائے حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ لوگوں پر کوئی دباؤ نہیں ڈالنا چاہیے اور انہیں آزادانہ انتخاب کرنا چاہیے کہ وہ کس ریاست کا انتخاب کریں۔ میں شامل ہونا چاہتا ہوں۔‘‘
واضح رہے کہ دفعہ 370 کو منسوخ کرنے کے بعدجموں و کشمیر انتظامیہ نے کئی تبدیلیاں انجام دی ہیں، بشمول تسلیم شدہ تعطیلات کی فہرست سےشیخ محمد عبداللہ کی یوم پیدائش کو ہٹانا اور بہادری اور باوقار خدمات کے لیے پولیس کے تمغوں پر ان کی تشبیہ کو نکالنا بھی شامل ہے۔اس سب کے باوجود شیخ عبداللہ کے ناموں کو جموں و کشمیر کی تاریخ سے مٹانے کا سلسلہ جاری ہے۔








