امت نیوز ڈیسک //
نئی دہلی: بی جے پی کے ترجمان سمبیت پاترا نے منگل کی شام وزیر اعظم نریندر مودی کے انڈونیشیا کے دورے کے بارے میں ایک سرکاری معلومات شیئر کی جس میں وزیراعظم مودی کو "بھارت کا وزیر اعظم” درج کیا گیا ہے۔
وزیراعظم مودی بدھ کی رات 20ویں آسیان-انڈیا چوٹی کانفرنس اور 18ویں مشرقی ایشیاء چوٹی کانفرنس میں شرکت کے لیے انڈونیشیا روانہ ہوں گے۔ 9 ستمبر کو جی 20 کے ایک عشائیہ کے دعوت نامہ میں مودی کو "بھارت کے وزیر اعظم” لکھا گیا ہے جبکہ صدر جمہوریہ ہند کو دعوت نامہ میں "بھارت کے صدر” لکھا گیا جس کے باعث ایک تنازع کھڑا ہوگیا کیونکہ اپوزیشن پارٹیوں نے الزام لگایا کہ حکومت لفظ ‘انڈیا’ کو چھوڑنے اور ملک کے نام کے ساتھ صرف بھارت لکھا رہنے کا منصوبہ بنارہی ہے۔حکومت کے اس اقدام پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کانگریس لیڈر جے رام رمیش نے ایکس ( ٹویٹر) پر لکھا کہ "دیکھو مودی حکومت کتنی الجھن میں ہے! 20ویں آسیان-انڈیا سربراہی اجلاس میں بھارت کے وزیر اعظم۔ یہ سب ڈرامہ صرف اس لیے ہوا کہ اپوزیشن اکٹھی ہوگئی اور اپوزیشن اتحاد کو ”انڈیا” کا نام دیا گیا ہے۔
روایتی طور پر انگریزی زبان میں ملک کو انڈیا کہا جاتا ہے۔ بی جے پی کے سینئر رہنما اور وزراء نے راشٹرپتی بھون کے اس اقدام کی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے مرکزی وزیر راجیو چندر شیکھر سے پوچھا کہ "بھارت کے صدر” کو استعمال کرنے میں کیا مسئلہ ہے کیونکہ ملک بھی بھارت ہے۔مزید پڑھیں:جی ٹوئنٹی عشائیہ کے دعوت نامہ میں پریسڈینٹ آف انڈیا کے بجائے پریسڈینٹ آف بھارت کیوں لکھا گیا، کانگریس برہمحکومت کے اس اس اقدام سے ان قیاس آرائیوں کو بھی تقویت ملتی ہے کہ 18 ستمبر سے شروع ہونے والے پارلیمنٹ کے پانچ روزہ خصوصی اجلاس کے دوران ملک کا نام تبدیل کرنے کا معاملہ سامنے آسکتا ہے۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری جے رام رمیش سمیت اپوزیشن رہنماؤں نے حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ ملک کے "ریاستوں کا اتحاد” ہونے کے تصور پر حملہ کر رہی ہے، جیسا کہ آئین میں مذکور ہے جس میں ملک کو ” انڈیا” کہا گیا ہے”.









