امت نیوز ڈیسک //
ایک مثبت قدم کے تحت اسکاسٹ یونیورسٹی گاندربل کے سات طلباء پر عائد یو اے پی اے کو منسوخ کر گیا گیا ہے۔آسٹریلیا کے ہاتھوں بھارت کی شکست کے بعد جموں و کشمیر سے باہر کے طالب علم کو دھمکانے اور مبینہ طور پر پاکستان کے حق میں نعرہ بازی کے الزام میں سات کشمیری طلبہ کو سخت قانون غیر قانونی سرگرمیاں روکتھام ایکٹ (یو اے پی اے کے تحت گرفتار کیا گیا تھا۔لیکن اب بڑی راحت ملتے ہوئے ساتوں طلباء پر یو اے پی اے کے تحت عائد الزامات کو واپس لیا گیا یے. اسکی جانکاری جموں و کشمیر سٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کے قومی کنوینر، ناصر کھوہامی نے ایکس کو پر دیتے ہوئے کہا، "سات کشمیری طلباء کے خلاف UAPA کے الزامات کو خارج کر دیا گیا ہے“۔
ایک سینئر پولیس افسر نے انڈین ایکسپریس کو بتایا کہ ضمانت کی درخواست سنیچر کو گاندربل میں چیف جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں سماعت کے لیے آئی، پولیس نے عدالت کو بتایا کہ ساتوں کے خلاف UAPA کے تحت الزامات کو خارج کر دیا گیا ہے۔سات طلباء کی نمائندگی کرنے والے ایڈوکیٹ شفیق بھٹ نے دی انڈین ایکسپریس کو اس کی تصدیق کی کہ انہیں ضمانت مل گئی ہے۔ اس سے قبل آج سات طالب علموں کے اہل خانہ نے مقامی پولیس سے رابطہ کیا اور اس معاملے میں نرمی برتنے کی درخواست کی تھی۔
پی صدر محبوبہ مفتی نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا یہ جان کر خوشی ہوئی کہ SKUAST طلباء کے خلاف UAPA کے الزامات کو خارج کر دیا گیا ہے۔ اور ان کا مستقبل خطرے سے بچ گیا.
واضح رہے 19 نومبر کو آئی سی سی کرکٹ ورلڈ کپ 2023 کے فائنل میچ میں آسٹریلیا کے ہاتھوں بھارت کو شکست کے بعد جموں و کشمیر سے باہر کے طالب علم کو دھمکانے اور مبینہ طور پر پاکستان کے حق میں نعرہ بازی کے الزام میں سات کشمیری طلبہ کو سخت قانون غیر قانونی سرگرمیاں روکتھام ایکٹ (یو اے پی اے کے تحت گرفتار کیا۔ جس کے بعد سیاسی جماعتوں نے اسکی شدید مذمت کی تھی۔









