امت نیوز ڈیسک //
سرینگر (جموں و کشمیر):جموں و کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) سرپرست محبوبہ مفتی نے ہفتہ کے روز ہائیڈرو الیکٹرک وسائل کو آؤٹ سورس کرنے کے فیصلے پر ایک ایسے وقت میں اپنی گہری تشویش کا اظہار کیا جب خطہ بجلی کے غیر معمولی بحران سے دوچار ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے محبوبہ مفتی نے دعویٰ کیا کہ ’’ایک ایسے وقت میں جب جموں و کشمیر بجلی کے شدید بحران کا سامنا کر رہا ہے، ہمارے ہائیڈرو الیکٹرک وسائل دوسری ریاستوں کو آؤٹ سورس کیے جا رہے ہیں۔‘‘
محبوبہ مفتی کے مطابق ’’اس سے پہلے (اس طرح کی کارروائی) نہیں دیکھی گئی ہے۔‘‘ محوبہ مفتی نے اس فیصلے کو جموں و کشمیر کے باشندوں کو مزید بے اختیار بنانے اور یہاں کے لوگوں کو اجتماعی سزا دینے کے مترادف قرار دیا۔ انہوں نے کہا: ’’ایک ایک اور فیصلہ ہے جو جموں و کشمیر کے باشندوں کو اجتماعی طور پر سزا دینے کے ارادے سے لی گیا ہے جس سے لوگ بنیادی سہولیات سے محروم ہو جائیں گے۔‘‘
محبوبہ کا یہ بیان رتلے ہائیڈرو پاور کارپوریشن کے راجستھان اورجا وکاس اور آئی ٹی سروسز لمیٹڈ کے ساتھ صوبہ جموں کے پہاڑی ضلع کشتواڑ میں اپنے 850 میگاواٹ پاور پلانٹ سے بجلی فراہم کرنے کے حالیہ معاہدے کے رد عمل میں سامنے آیا ہے۔ رتلے ہائیڈرو الیکٹرک پاور کارپوریشن لمیٹڈ (آر ایچ پی سی ایل) این ایچ پی سی لمیٹڈ اور جموں اور کشمیر اسٹیٹ پاور ڈیولپمنٹ کارپوریشن (جے کے ایس پی ڈی سی) کی ایک مشترکہ کمپنی ہے، جیسا کہ وزارت بجلی کے ایک بیان میں تفصیل سے بتایا گیا ہے۔
بیان کے مطابق، رتلے ہائیڈرو الیکٹرک پروجیکٹ کے کمرشل آپریشن کی تاریخ سے 40 سال کے لیے بجلی کی فراہمی کے لیے معاہدے پر دستخط کیے گئے ہیں۔ بجلی کی تقسیم کو وزارت بجلی کی طرف سے مطلع کیا جائے گا، جس سے خطے میں پہلے سے ہی بحران کا شکار بجلی کے ترسیلی نظام پر طویل مدتی اور منفی اثرات کے بارے میں خدشات ظاہر ہوں گے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ آر ایچ پی سی ایل نے راجستھان اورجا وکاس اور آئی ٹی سروسز لمیٹڈ کے ساتھ ایک پاور پرچیز ایگریمنٹ (پی پی اے) کیا ہے، جس میں جموں اور کشمیر کے کشتواڑ میں 850 میگاواٹ ریٹل ہائیڈرو الیکٹرک پروجیکٹ سے پیدا ہونے والی بجلی کی فراہمی کے انتظامات کو باقاعدہ بنایا گیا ہے۔ پی پی اے پر بدھ کو جے پور میں دستخط کیے گئے۔ تقریب کے دوران آر ایچ پی سی ایل اور راجستھان اورجا وکاس اور آئی ٹی سروسز لمیٹڈ دونوں کے سینئر افسران موجود تھے۔ اس فیصلے نے مقامی آبادی میں کافی تشویش پیدا کی ہے جبکہ ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ بجلی کے وسائل کو آؤٹ سورس کرنے سے یہاں کے مقامی باشندوں کو درپیش چیلنجز میں مزید اضافہ ہوگا اور بنیادی سہولیات تک ان کی رسائی کافی حد تک متاثر ہو سکتی ہے۔










