(نئی دہلی) بٹلہ ہاؤس انکاؤنٹر میں پولیس ٹیم کا حصہ رہنے والے سب انسپکٹر سنجیو کمار کی سڑک حادثے میں موت ہوگئی۔ انہیں 28 دسمبر کو بائیک سواروں نے ٹکر ماری تھی جس سے انہیں شدید چوٹ آئی تھی۔ تفصیلات کے مطابق سنجیو کمار لوچن کو 28 دسمبر کی رات بابا ہری داس نگر پولیس اسٹیشن کے سامنے بائیک سواروں نے ٹکر مار دی تھی جس میں ان کے سر پر شدید چوٹ آئی تھی۔ اس کے بعد انہیں قریبی وینکٹیشور اسپتال لے جایا گیا جہاں علاج کے دوران ان کی موت ہوگئی۔ حادثہ اس وقت پیش آیا جب سنجیو کمار اپنی کار پارک کرکے سڑک عبور کررہے تھے۔ تبھی سامنے سے آنے والی تیز رفتار موٹر سائیکل نے انہیں ٹکر مار کر شدید زخمی کر دیا۔ حادثے میں بغیر ہیلمٹ موٹر سائیکل پر سفر کرنے والے تین نوجوان زخمی بھی ہوئے۔ موقع پر موجود پولیس اہلکاروں نے تمام زخمیوں کو مقامی اسپتال میں داخل کرایا تھا۔ اس معاملے میں پولیس نے ایک نوجوان کو بھی گرفتار کیا ہے۔ سنجیو کمار لوچن جنک پوری کے قریب پوشنگی پور گاؤں کے رہنے والے تھے۔ واضح رہے کہ بٹلہ ہاؤس انکاؤنٹر19 ستمبر 2008 کو ہوا تھا، جس میں دہلی پولیس کے ساتھ تصادم میں دو مبینہ شدت پسندوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا گیا تھا جبکہ اسپیشل سیل کے انسپکٹر موہن چند شرما بھی اس انکاؤٹر میں ہلاک ہوئے تھے۔ اس انکاؤنٹر سے پورے ملک میں بحث شروع ہوئی تھی اور الگ الگ سوال اٹھائے جارہے تھے۔ بٹلہ ہاؤس انکاؤنٹر کو انجام دینے پر سنجیو کمار لوچن کو صدر جمہوریہ پولیس میڈل اور گیلینٹری ایوارڈ سے بھی نوازا گیا تھا۔ اس کے علاوہ انہیں ہیڈ کانسٹیبل سے اسسٹنٹ سب انسپکٹر اور پھر سب انسپکٹر کے عہدے پر ترقی ملی تھی۔ اس وقت ان کی پوسٹنگ بابا ہری داس نگر تھانے میں تھی۔
خیال رہے اس انکاؤنٹر کا اثر دہلی سے ہوتے ہوئے اترپردیش کے اعظم گڑھ تک ہوا۔ نئی دہلی کے زاکر نگر علاقے میں ہوئے اس انکاونٹر کو فرضی انکاونٹر کہا جاتا ہے حالانکہ اب تک یہ پوری طرح واضح نہیں کیا جاسکا ہے کہ یہ انکاونٹر فرضی تھا۔ اس انکاونٹر میں کل تین لوگوں کی جان چلی گئی تھی، جن میں دو مشتبہ انڈین مجاہدین کے رکن آصف امین اور محمد ساجد اور آپریشن کی قیادت کرنے والے انسپکٹر موہن چند شرما کو گولی لگی اور تینوں کی جان چلی گئی۔ آصف امین اور محمد ساجد کا تعلق یو پی کے اعظم گڑھ سے تھا۔ آصف امین جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی میں ماسٹرز کر رہے تھے، جبکہ محمد ساجد کی عمر محض 17 سال تھی۔ اس پورے معاملے میں اب تک کسی حتمی فیصلے تک نہیں پہنچا جاسکا ہے چونکہ اس معاملے کی اعلیٰ سطحی جانچ نہیں کرائی گئی ہے۔ سنہ 2013 میں ساکیت سیشن کورٹ نے اپنے فیصلے میں اس انکاونٹر کو صحیح ٹھہرا تھا۔ اترپردیش کے دارلحکومت لکھنؤ میں اس معاملے کو لیکر اجلاس ہوتے رہتے ہیں جن میں حکومت سے مطالبہ کیا جاتا ہے کہ اس سانحے کے متاثرین کو انصاف فراہم کیا جائے۔











