امت نیوز ڈیسک //
سری نگر : مرکز نے بی ایس ایف کے ڈائریکٹر جنرل نتن اگروال اور ان کے نائب، اسپیشل ڈی جی (ویسٹ) وائی بی کھرانیہ کو برطرف کر دیا ہے، انہیں ان کے متعلقہ ریاستی کیڈرز میں واپس بھیج دیا گیا ہے، جمعہ کو جاری ایک سرکاری حکم کے مطابق یہ کاروائی کی گئی۔
ان دو پولیس افسران کی ان کے کیڈرز میں واپسی اس لئے عمل میں لائی گئی ہے کیونکہ بھارت پاکستان سرحد کے ساتھ جموں خطے میں شدت پسندی کے واقعات میں کوئی کمی نہیں ہورہی تھی۔ راجوری، پونچھ، ریاسی، ادھم پور، کٹھوعہ اور ڈوڈہ جیسے اضلاع میں اس سال 11 سیکورٹی اہلکار اور ایک گاؤں کے دفاعی محافظ سمیت کم از کم 22 افراد مارے گئے ہیں۔
اس سرحد کی حفاظت بی ایس ایف کے ان نوجوانوں پر تھی مگر انہوں نے عسکریت پسندی کے واقعات میں کوئی کمی نہیں لا پائی۔ اور انہوں نے دراندازی کی کسی بھی واردات سے انکار کیا ہے۔ پچھلے مہینے کٹھوعہ اور ڈوڈہ اضلاع میں تصادم میں پانچ عسکریت پسند مارے گئے تھے۔
اگروال، 1989 بیچ کے کیرالہ کیڈر کے افسر، گزشتہ سال جون میں بی ایس ایف کے سربراہ بنے اور جولائی 2026 میں ریٹائر ہونے والے تھے۔ کھرانیہ، 1990 بیچ کے اوڈیشہ کیڈر سے تعلق رکھنے والے، مغربی سیکٹر میں پاکستانی سرحد پر بھارتی فورس کی قیادت کر رہے تھے۔
کھرانیہ کے لئے توقع کی جارہی تھی کہ وہ اڈیشہ میں پولیس فورس کے سربراہ یا پولیس کے ڈائریکٹر جنرل ہوں گے، جہاں حال ہی میں بی جے پی کی نئی حکومت نے عہدہ سنبھالا ہے مگر ایسا نہیں ہوا۔ کابینہ کی تقرری کمیٹی (اے سی سی) نے 1989 بیچ کے اوڈیشہ کیڈر کے افسر امرت موہن پرساد کو سنٹرل ریزرو پولیس فورس میں خصوصی ڈی جی کے طور پر مقرر کیا۔










