2021ء کے لئے ادب کا نوبیل انعام حاصل کرنے والےوہ چودہ برسوں کے دوران اس اعزاز کے لیے منتخب ہونے والے پہلے افریقی ادیب ہیں
شروع میں توانھوں نے یہ خیال کیا کہ یہ کوئی شرارت ہے۔ان کا کہنا تھا ’’نہیں ایسا ممکن نہیں ‘‘۔جب خبر پکی ہو گئی تو وہ خوشی سے نہال ہو گئے۔
وہ یہ ایوارڈملنے پرحیران و ششدر بھی ہیں ۔ان کا خیال ہے ان سے بھی کہیں زیادہ بلند پایہ ادیب موجود ہیں، ایسے میں ان کا انتخاب حیران کر دینے والا ہے۔دوسری جانب ادبی جائزہ کاروں کا کہنا ہے یہ شخص عجز و انکسار کی تصویر ہے اور اپنے کام سے عبادت کی حد تک محبت کرتا ہے۔وہ خود نہیں جانتا کہ وہ کتنا بڑاادیب ہے۔
عبدالرزاق گرناہ گزشتہ چودہ برسوں میں اس اعزاز کے لیے منتخب ہونے والے پہلے افریقی ادیب ہیں۔ 2021ء کا ادب کا نوبیل انعام دینے کا اعلان سات اکتوبر کو سٹاک ہوم میں سویڈش اکیڈمی کی طرف سے کیا گیا۔ جیوری کے فیصلے کے مطابق اس وقت 72 سالہ گرناہ کی ایک ناول نگار کے طور پر خاص بات یہ ہے کہ ان کی تصانیف میں بڑے ہمدردانہ انداز میں اور کسی بھی مصلحت پسندی سے کام لیے بغیر نوآبادیاتی نظام کے اثرات اور ایک مہاجر کی قسمت کا ذکر ملتا ہے ۔وہ زمبابوے کی سفید فام مصنفہ ڈورس لیسنگ کو ملنے والے نوبیل انعام کے بعد ایسے پہلے افریقی ادیب ہیں جنہیں یہ انعام دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
عبدالرزاق گرناہ ایک مہاجر کے طور پر 1960 کی دہائی میں تنزانیہ سے اس وقت برطانیہ ہجرت کر گئے تھے جب زنجبار میں عرب نسل کے شہریوں کا تعاقب شروع کر دیا گیا تھا۔ گرناہ زنجبار میں اُس دور میں بڑے ہوئے تھے جب برطانوی نوآبادیاتی نظام کے خاتمے اور پرامن انداز میں حاصل کردہ آزادی کے ساتھ وہاں انقلابی تبدیلی آ گئی تھی۔تنزانیہ میں اپنے آبائی علاقے سے ترک وطن کے بعد عبدالرزاق گرناہ 1984ء میں صرف ایک بار اس وقت واپس زنجبار جا سکے تھے جب انہیں اپنے والد کے انتقال سے کچھ ہی عرصہ قبل ان سے ملاقات کی اجازت ملی تھی۔
عبدالرزاق گرناہ کے مطابق ہجرت ، مسافت اور دربدری ایسے موضوعات ہیں جن سے ہمیں روزانہ ہی پالا پڑتا ہے۔انھوں نے اپنی ادبی تخلیقات کے لیے انہی موضوعات کا انتخاب کیا۔یہ ایسے مسائل ہیں جو اس وقت پہلے سے بھی زیادہ سنگین صورت حال اختیار کرچکے ہیں جب وہ خود 1960 کی دہائی میں برطانیہ آئے تھے۔
نھوں نے 21 برس کی عمر میں انگریزی میں لکھنا شروع کیا تاہم ان کی مادری زبان سواحلی تھی۔نوبیل پرائز کمیٹی کے مطابق عبدالرزاق کو، تہذیبوں پرا نوآبادیات کے اثرات اور پناہ گزینوں کے ساتھ مختلف براعظموں میں پیش آنے والے مصائب کو، انتہائی آسان الفاظ میں بیان کرنے کی وجہ سے ادب کے نوبیل انعام کے لیے منتخب کیا گیا۔
عبدالرزاق گرناہ زنجبار جزیرے میں 1948 میں پیدا ہوئے اور پناہ گزین کی حیثیت سے برطانیہ ہجرت کر کے آ ئے۔ انھوں نے برطانیہ میں ہی تعلیم حاصل کی اور وہیں ملازمت بھی اختیار کی، وہ یونیورسٹی میں ادب کے پروفیسر تعینات ہوئے۔ ریٹائرمنٹ سے قبل وہ یونیورسٹی آف کینٹربری میں انگریزی اور پوسٹ کالونیل لٹریچر کے پروفیسر تھے۔عبدالرزاق کی مختصرکہانیوں کی کتابیں شائع ہو چکی ہیں۔ان کا سب سے مشہور ناول ’پیراڈائز‘ 1994 میں شائع ہوا، جسے بکر پرائز کے لیے بھی نامزد کیا گیا۔ 2001 میں شائع ہونے والے ان کے ناول’ ’بائے دی سی‘ ‘نے لوگوں کی توجہ مہاجرین کے مسائل کی جانب مبذول کروائی۔
عبدالرزاق کو رواں برس دسمبر میں نوبیل انعام دیا جائے گا، انھیں تقریباً 11 لاکھ امریکی ڈالرز کی رقم بھی ملے گی۔
پاکستانی ادیبہ آمنہ مفتی عبدالرزاق گرناہ کو یہ بڑا انعام ملنے پہ لکھتی ہیں۔
’’اس بار کا نوبیل انگریزی زبان کے ادیب ہی کو ملا۔ حسب ِمعمول ہمارے ہاں پڑھنے والوں کی اکثریت انھیں نہیں جانتی تھی۔ ان کے ایک ناول کا اردو ترجمہ’ ’یادِ مفارقت‘ ‘کے نام سے ہو چکا ہے۔یہ درد صرف سرحد کے اس پار ہی نہیں اٹھا، اس پار بھی یہی تکلیف ہے۔ ٹیگور کے نوبیل کے ساتھ بھی مسئلہ یہی ہے کہ انہیں یہ اعزاز کسی مقامی زبان کی بجائے انگریزی ترجمے کی بدولت ملا۔وجہ جو بھی ہو یہ امر ایک حقیقت ہے کہ دو ایک نوبیل ملنے کے بعد ہماری نسل کے ادیبوں کے دلوں میں یہ اعزاز حاصل کرنے کی ٹمٹماتی ہی سہی مگر امید کی ایک شمع روشن تو ہوتی ہے۔ خاص کر ُان ادیبوں کے دلوں میں جنھوں نے انگریزی میں لکھا۔









