گاندربل/ اعجاز بابا
گاندربل کی سیشنز کورٹ نے ایک نوعمر بچی کے اغوا اور زیادتی کے مقدمے میں اہم فیصلہ سنایا ہے، جس میں ملزم کو طویل مدت کی قید کی سزا دی گئی۔یہ کیس 2019 کا ہے، جب گاندربل پولیس اسٹیشن میں ایک نوعمر بچی کے اغوا کی شکایت والدین نے درج کرائی تھی۔ پولیس اسٹیشن گاندربل میں ایف آئی آر (نمبر 136/2019) درج کی گئی، اور تحقیقات کے بعد ملزم محمد سلیم ٹپلو، ولد محمد مقبول ٹپلو، ساکن انچار صورہ، کے خلاف بھارتی تعزیرات کے ضابطہ (آئی پی سی) کی دفعہ 363 اور بچوں کے جنسی استحصال سے بچاؤ کے قانون (پی او سی ایس او ایکٹ) کی دفعہ 4 کے تحت الزامات عائد کیے گئے۔
دونوں طرف کے دلائل سننے کے بعد، پرنسپل سیشن جج عبد الناصر نے فیصلہ سنایا، جس میں ملزم کو دفعہ 363 آئی پی سی کے تحت 7 سال قید اور پی او سی ایس او ایکٹ کی دفعہ 4 کے تحت 20 سال کی سخت قید کی سزا سنائی، نیز ملزم پر 25,000 روپے کا جرمانہ اور 50,000 روپے کا مزید جرمانہ عائد کیا گیا۔ دونوں سزائیں الگ الگ چلیں گی، اور جرمانہ کی رقم نہ ادا کرنے کی صورت میں ایک ماہ کی اضافی قید کی سزا دی جائے گی۔
یہ فیصلہ 13 فروری 2025 کو سنایا گیا، جو بچوں کے حقوق اور ان کی حفاظت کے حوالے سے عدلیہ کی جانب سے ایک اہم قدم ثابت ہوا ہے۔
مقدمے کی پیروی سرکاری وکیل شفاعت احمد نے کی، جنہوں نے حکومت یو ٹی کی نمائندگی کرتے ہوئے ملزم کے خلاف مضبوط کیس پیش کیا۔
یہ تاریخی فیصلہ عدلیہ کی اس عزم کو مستحکم کرتا ہے کہ وہ بچوں کے خلاف اس طرح کے گھناونے جرائم کے خلاف انصاف فراہم کرے گا اور ان کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قدم اٹھایا جائے گا۔








