امت نیوز ڈیسک //
ہمارا منشور پانچ دن یا پانچ ہفتے کیلئے نہیں اور ہم جانتے ہیں کہ منشور میں کئے گئے وعدوں کو کیسے پورا کیا جائے گا کی بات کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ عمر عبد اللہ نے کہا کہ تمام مسائل کا حل یوٹی میں نہیںہوگا اور اس کیلئے ریاستی درجے کی بحالی ضروری ہے جس کی جدو جہد ہم لڑ رہے ہیں ۔ انہوں نے مزید کہا کہ بجٹ پیش کرنے سے قبل اس پر کوئی بھی بات کرنا ایک بڑی غلطی ہو گی اور کہا کہ جو بھی بجٹ میں ہمیں ڈالنا ہوگا یا نہیں وہ 7مارچ کو قانون ساز اسمبلی میں ہوگا ۔سی این آئی کے مطابق سکاسٹ کشمیر میں ایک تقریب کے حاشیہ پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ عمر عبد اللہ نے کہا کہ بجٹ اجلاس سے قبل اس بارے میں بات کرنا ایک بڑی غلطی ہوگی ۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے جو بجٹ میں ڈالنا ہوگا یا نہیں یہ سب 7مارچ کو جموں کشمیر قانو ن ساز اسمبلی میں بجٹ پیش کرنے کے دوران سامنے آیا گا اور کہا کہ فی الحال میں اس پر کوئی بات نہیںکروں گا ۔ایک سوال کے جواب میں وزیر اعلیٰ عمر عبد اللہ نے کہا کہ انتخابی منشور کے دوران جموں کشمیر کے عوام کے ساتھ جو بھی وعدے کئے گئے ہیں ان کو پورا کیا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا منشور پانچ دن یا پانچ ہفتے کیلئے نہیں بلکہ پانچ سال کیلئے ہیں ۔ انہوں نے کہا ” آپ انتظار کریں ، ابھی ہمارا پہلا بجٹ بھی پیش نہیںہوگا ۔ “ انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے پہلے بھی کہا ہے کہ یوٹی میں جو چیزیں ہوسکتی ہے ان کو پورا کیا جائے گا اور دیگر چیزوں کیلئے ہمیں ریاستی درجہ کی بحالی لازمی ہے ۔ عمر عبد اللہ نے کہا ” جو چیزیں ہم یوٹی میں کر سکتے ہیں ہم کریں گے “ ۔ انہوں نے کہا کہ کچھ چیزوں کا حل ریاست میں ہے اور اس کیلئے ہم لڑائی لڑرہے ہیں ۔ عمر عبد اللہ نے ایک اور سوال کے جواب میں کہا کہ رواں موسم سرما کے دوران انتہائی کم برفباری اور بارشیں ہوئی جس کا اثر موسم گرما میں ہوگا اور کہا کہ ہم نے پہلی ہی کہا تھا کہ ہمیں اس کیلئے تیاری پہلی سے کرنی ہوگی ۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں پانی کی قلت موسم گرما میں ہوگی اور اس کیلئے سرکاری سطح پر اقدامات اٹھانے ہونگے وہ اٹھائیں جائیں گے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ ظاہر سی بات ہے کہ اگر بارشیں کم ہو تو پانی کی قلت آگے ہو گی ۔ عمر عبد اللہ نے کہا کہ اس کیلئے ہم نے پہلے بھی کہا تھا پانی کے صیح استعمال کیا جائے تاکہ آگے ہمیں کسی بھی طرح کے مشکلات کا سامنا نہ ہو ۔ انہوں نے کہا کہ کسانوں کیلئے جو بھی اقدامات اٹھانے ہونگے ہم جل شکتی محکمہ کے ساتھ بیٹھ کو اس کو پورا کریںگے ۔










