امت نیوز ڈیسک //
کپواڑہ ضلع کی وادی بنگس میں بڑے پیمانے پر عمارتوں اور ہوٹلوں کی تعمیر کو مسترد کرتے ہوئے جموں کشمیر حکومت نے کہا کہ علاقے کی ماحولیاتی حساسیت کو برقرار رکھنے کیلئے پرعزم ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ علاقے کو ماحول دوست منزل کے طور پر تیار کیا جا رہا ہے۔
سی این آئی کے مطابق جموں کشمیر قانون ساز اسمبلی میں جموں کشمیر حکومت نے بنگس وادی میں عمارتوں اور ہوٹلوں کی تعمیر کو مسترد کر دیا۔ممبر اسمبلی لنگیٹ شیخ خورشید کے ایک سوال کے جوا ب میں وزیر اعلیٰ عمر عبد اللہ جن کے پاس وزیر سیاحت کا بھی چارج ہیں نے کہا کہ وادی بنگس میں حکومت نے بڑی عمارتوں اور ہوٹلوں کی تعمیر سے بچنے پر توجہ مرکوز کی ہے۔انہوں نے کہا ” اس کے بجائے علاقے کو ایک ماحولیاتی سیاحتی مقام کے طور پر تیار کیا جا رہا ہے۔ اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ سیاحتی سرگرمیاں وادی کے قدیم ماحول کو متاثر نہ کریں“۔انہوں نے کہا کہ محکمہ سیاحوں کیلئے بنیادی تفریحی سہولیات، بارش کی پناہ گاہیں، عوامی سہولتیں، مناسب اشارے، لائٹنگ، اور کچرے کو ٹھکانے لگانے کی سہولیات قائم کر رہا ہے۔
وزیر اعلی نے کہا ” مقامی چرواہوں، خانہ بدوشوں اور بنگس وادی کے دیگر باشندوں کی روزی روٹی کے تحفظ کیلئے حکومت نے قریبی علاقوں میں پے گیسٹ ہاوسز کی رجسٹریشن شروع کی ہے، جس سے نہ صرف مقامی خاندانوں کو معاشی فروغ ملتا ہے بلکہ خطے کی امیر ثقافت، روایات اور کھانوں کے تحفظ اور فروغ میں بھی مدد ملتی ہے“۔وزیر موصوف نے بتایا کہ وادی بنگس کے آس پاس میں اب تک 19 ادائیگی کرنے والے گیسٹ ہاوسز محکمہ سیاحت کے پاس رجسٹرڈ ہیں۔
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے آج کہا کہ حکومت بنگس کو ایک غیر معمولی مقام کے طور پر ترقی دینے کا منصوبہ بنا رہی ہے اور سیاحوں کے لیے کچھ بنیادی سہولیات فراہم کرنے کے لیے فنڈس مختص کیے گئے ہیں لیکن فنڈس کا استعمال جنگلات کی منظوری سے منسلک ہے، جو علاقے کی منصوبہ بند ترقی کے لیے اہم ہے۔








