امت نیوز ڈیسک //
سرینگر: جموں و کشمیر پولیس نے پیر کے روز جنوبی کشمیر کے کولگام ضلع میں قبائلی نوجوان کی ہلاکت پر ہونے والے احتجاج کے دوران ایک پولیس افسر کے رویے سے متعلق الزامات کا نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات کا حکم جار کیا ہے۔
دو بھائی، 25 سالہ ریاض احمد باجڑ اور 18 سالہ محمد شوکت باجڑ، اپنے ساتھی مختار اعوان کے ہمراہ 14 فروری کو شادی کی ایک تقریب میں شرکت کے لیے ضلع کے اشموجی نامی ایک گاؤں روانہ ہوئے تھے، تاہم وہ لاپتہ ہو گئے۔ تینوں کا تعلق چندیان پاجن گاؤں سے تھا اور اہل خانہ کے مطابق وہ مزدوری کرکے اپنے اور اہل و عیال کے لئے دو وقت کی روٹی جٹا رہے تھے۔
پولیس اور نیشنل ڈیزاسٹر ریسپانس فورس (این ڈی آر ایف) نے ویشو ندی سے ریاض اور شوکت کی لاشیں برآمد کر لیں، تاہم مختار اعوان تاحال لاپتہ ہے۔ شوکت کی لاش گزشتہ روز جبکہ ریاض کی لاش 14 مارچ کو ماہ اشموجی گاؤں کے قریب ویشو ندی سے ملی تھی۔
ہلاکتوں کے خلاف قبائلیوں نے کولگام ہائی وے پر احتجاج کیا، جہاں ایک پولیس افسر پر مظاہرین کے ساتھ ’’نامناسب رویے‘‘ کا الزام عائد کیا گیا۔ یہ واقعہ ایک ویڈیو میں بھی سامنے آیا ہے، جو سوشل میڈیا پر وائرل یوا۔
پولیس ترجمان کے مطابق، سینٹرل کشمیر کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس کو اس معاملے کی تحقیقات کے لیے انکوائری آفیسر مقرر کیا گیا ہے، جو آئندہ 10 روز میں اپنی رپورٹ پیش کریں گے۔ پولیس نے کہا، ’’کولگام میں ایک پولیس افسر کے عوام کے ساتھ رویے سے متعلق ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ہے۔ ہم نے اس واقعے کا سنجیدہ نوٹس لیا ہے اور تحقیقات شروع کر دی گئی ہے۔‘‘











