امت نیوز ڈیسک //
سینٹرل کشمیر کے ضلع بڈگام میں سب ضلع ہسپتال چاڈورہ کے ایمر جنسی ٹراما روم میں ایک کتے کی موجودگی کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد حکام نے سخت کارروائی کرتے ہوئے سات ملازمین کے بشمول دو ڈاکٹروں کے خلاف سخت اقدامات کیے ہیں۔ ایک انکوائری کمیٹی نے سنگین غفلت کی تصدیق کی
اور ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی سفارش کی۔ مورخہ 14 مارچ 2025 کو سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل ہونے کے بعد ڈائریکٹوریٹ آف ہیلتھ سروسز کشمیر نے حقائق جاننے کے لیے ایک انکوائری کمیٹی تشکیل دی تحقیقات میں کئی ملازمین کی سنگین لاپرواہی سامنے آئی، جس کے نتیجے میں فوری کارروائی کی گئی۔
انکوائری میں تین ملٹی ٹاسکنگ اسٹاف ملازمین انصار شیخ مشتاق احمد اور عبدالغنی کو غفلت کا مرتکب پایا گیا، جس پر انہیں معطل کر کے ڈی ایچ ایس کے منسلک کر دیا گیا ہے۔ تحقیقات میں دو ڈاکٹروںکو بھی فرائض میں غفلت کا ذمہ دار قرار دیا گیا۔ ڈاکٹر مبشر امین اور ڈاکٹر عقیل افضل کو بطور تادیبی کارروائی ڈی ایچ ایس کے منسلک کر دیا گیا۔ اس کے علاوہ زاہد احمد فارماسسٹ اور مشتاق احمد سینیٹری انسپکٹر کو بھی غفلت کا مرتکب پایا گیا اور ان کے خلاف تادیبی کارروائی کی گئی۔
کمیٹی کی رپورٹ میں اسپتال کی نگرانی اور انتظامی معاملات پر بھی سنگین خدشات کا اظہار کیا گیا۔ تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ بلاک میڈیکل آفیسر رات کی ڈیوٹی کے عملے کی حاضری رجسٹر رکھنے میں ناکام رہے، سی سی ٹی وی کیمروں اور ان کی فوٹیج کی مناسب نگرانی نہیں کی گئی اور اسپتال میں غیر متعلقہ افراد کی موجودگی سے لاعلم رہے۔









