امت نیوز ڈیسک //
سرینگر: جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ فاروق عبداللہ نے بدھ کو سراغ رساں ادارے ’را‘ کے سابق سربراہ اے ایس دُلت کے ان دعووں پرشدید ردعمل ظاہر کیا کہ انہوں نے آرٹیکل 370 کی منسوخی کی ’’درپردہ طور پر حمایت‘‘ کی تھی۔ فاروق عبداللہ نے دلت پر انکی منظر عام پر آنے والی کتاب کی فروخت بڑھانے کے لیے ’’اوچھے ہتھکنڈے‘‘ استعمال کرنےکا الزام عائد کیا ہے۔
فاروق عبداللہ نے دُلت کے ان دعووں کو مسترد کیا کہ انکی جماعت نیشنل کانفرنس نے جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنے کی تجویز کو پاس کرنے میں ’’مدد‘‘ کی ہوتی اگر اسے اعتماد میں لیا جاتا، پارٹی کے 87 سالہ صدر نے کہا کہ یہ مصنف کی ’’تخیلاتی کہانی‘‘ ہے۔ دُلت کی کتاب ’’دی چیف منسٹر اینڈ دی اسپائی‘‘ 18 اپریل کو ریلیز ہونے والی ہے۔
عبداللہ نے کہا کہ وہ اور ان کے بیٹے عمر عبداللہ دونوں کو 5 اگست 2019 کو دفعہ 370 کی منسوخی کے وقت کئی مہینوں تک حراست میں رکھا گیا تھا۔ ’’ہمیں اس لیے حراست میں لیا گیا تھا کہ خصوصی درجہ کی منسوخی کے خلاف ہمارا موقف واضح تھا۔‘‘ انہوں نے پی ٹی آئی کو بتایا۔
فاروق عبداللہ نے کہا کہ انہوں نے جموں و کشمیر میں تمام بڑی سیاسی قوتوں کو اکٹھا کرنے کی پہل کی ہے اور ریاست کی خصوصی حیثیت کے دفاع کے لیے سیاسی جماعتوں کا اتحاد پیپلز الائنس فار گپکار ڈیکلریشن (پی اے جی ڈی)تشکیل دیا ہے۔
عبداللہ نے دلت کے اس دعوے کو مضحکہ خیز قرار دیا کہ جموں و کشمیر اسمبلی میں دفعہ 370 کی منسوخی کے لیے ایک قرارداد منظور کی گئی ہوتی۔ فاروق عبداللہ کے مطابق کتاب میں یہ دعویٰ کہ نیشنل کانفرنس خصوصی حیثیت کی منسوخی پر قرارداد منظور کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے، محض اس مصنف کے تخیل کی عکاسی ہے جس نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ میرا دوست ہے۔
دلت کے استدلال میں خامیوں کو اجاگر کرتے ہوئے، انہوں نے کہا:ـ ’’مصنف کو نام نہاد یادداشتیں لکھتے وقت عقل کا ایک معیار اپنانا چاہیے تھا۔ اسے یاد رکھنا چاہیے تھا کہ 2018 میں کوئی اسمبلی ایسی نہیں تھی جسے تحلیل کیا جا سکتا ہو۔‘‘
عبداللہ نے اصرار کیا کہ اگر اسمبلی کا اجلاس جاری ہوتا تو بھی وہ ایسی قرارداد پاس کرنے پر غور نہ کرتے۔ یہ پوچھے جانے پر کہ کیا انہیں کتاب کا جائزہ لینے کا موقع ملا، این سی کے صدر نے کہا کہ یہ کتاب غلط بیانیوں اور غیر واضح کہانیوں سے بھری پڑی ہے۔ انکے مطابق کچھ دیر پڑھنے کے بعد انہوں نے سوچا کہ وہ ایک افسانہ پڑھ رہے ہیں اور اسے پڑھنا چھوڑ دیا۔
سابق وزیر اعلیٰ نے ایک مخصوص غلطی کا بھی حوالہ دیا جہاں دلت نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے فاروق عبداللہ کو مشورہ دیا تھا کہ وہ چھوٹی کابینہ کے ساتھ حلف اٹھائیں۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے 25 وزراء کے ساتھ حلف اٹھایا تھا اور یہ کوئی چھوٹی تعداد نہیں ہے۔ عبداللہ نے ان کے تعلقات کے بارے میں دلت کے دعووں کو مسترد کر دیا، خاص طور پر یہ دعویٰ کہ وہ اکثر دلت کے مشورے پر دھیان دیتے ہیں۔
مصنف کا دعویٰ ہے کہ عبداللہ ہمیشہ ان کے مشوروں کو سنتا تھا، جو کہ مجھے کم تر ثابت کرنے کی ایک اور مثال ہے۔ میں اپنے ذہن کا آدمی ہوں، اور میں صرف فیصلہ کرتا ہوں۔ میں کسی کا کٹھ پتلی نہیں ہوں، فاروق عبداللہ نے کہا۔
دلت کے اس دعوے کے بارے میں کہ این سی بی جے پی کے ساتھ قریبی تعلقات چاہتی ہے، عبداللہ نے اس کی سختی سے تردید کی۔ ’’دلت کا یہ دعویٰ کہ نیشنل کانفرنس بی جے پی کے قریب جانا چاہتی ہے سراسر جھوٹ ہے کیونکہ میں وہ نہیں ہوں جو کسی ایسی پارٹی کے ساتھ گٹھ جوڑ کروں جو میری پارٹی کو تباہ کرنے کے لیے کمر بستہ ہے۔‘‘
عبداللہ نے دلت کی حرکتوں پر مایوسی کا اظہار کیا۔ ’’سب سے بری بات یہ ہے کہ وہ میرا دوست ہونے کا دعویٰ کرتا ہے، اور جیسا کہ کہا گیا ہے، جسم پر کوئی وار کرتا ہے تو یہ ٹھیک ہو جاتا ہے، لیکن دل کو چوٹ لگتی ہے، اور زخم زندگی بھر رہتا ہے، اور میرا اندازہ ہے کہ اس کی غیر واضح کہانوں کی تکلیف اور وہ بھی صرف سستی تشہیر کے لیے، اب زندگی بھر رہے گی۔‘‘









