امت نیوز ڈیسک //
پاکستان سے آنے والے بیانات کو زیادہ اہمیت نہیں دینا چاہتے کی بات کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ عمر عبد اللہ نے کہا کہ پہلگام حملے کو فرقہ وارانہ بنانے والوں کو عادل کی قربانی کو یاد رکھنا چاہیے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ کوئی بھی چھٹی کے دوران ایسی صورتحال کا تجربہ نہیں کرنا چاہتا۔ لیکن میں کشمیر چھوڑنے والے لوگوں سے کہنا چاہتا ہوں کہ ان کی واپسی دشمنوں کو اپنے مشن میں کامیاب ہونے میں مدد دے گی کیونکہ حملہ آور چاہتے تھے کہ اس حملے کے بعد سیاح واپس آئیں۔
سی این آئی کے مطابق رام بن دورے کے دوران میڈیا سے بات کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا کہ پہلگام واقعہ کو فرقہ وارانہ بنانے والوں کو کشمیری نوجوانوں کی قربانی کو یاد رکھنا چاہئے، اور مقامی لوگوں کی طرف سے بڑے پیمانے پر مذمت بھی کرنا چاہئے۔صحافیوں سے بات کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ عمر عبد اللہ نے کہا کہ وہ سیاحوں میں خوف کو سمجھ سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا”کوئی بھی چھٹی کے دوران ایسی صورتحال کا تجربہ نہیں کرنا چاہتا۔ لیکن، میں کشمیر چھوڑنے والے لوگوں سے کہنا چاہتا ہوں کہ ان کی واپسی دشمنوں کو اپنے مشن میں کامیاب ہونے میں مدد دے گی کیونکہ وہ چاہتے تھے کہ اس حملے کے بعد سیاح واپس آئیں“۔
وزیر اعلیٰ نے یہ بھی کہا کہ حملے کو فرقہ وارانہ بنانے والوں کو عادل کی قربانی کو بھی یاد رکھنا چاہیے، جس نے سیاحوں کو بچانے کے لیے حملہ آوروں سے لڑتے ہوئے اپنی جان گنوائی۔
انہوں نے مزید کہا کہ انہیں یہاں کے لوگوں کی طرف سے وسیع پیمانے پر مذمت کو بھی یاد رکھنا چاہیے۔ اسی دوران وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے پہلگام حملے پر پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف کے ریمارکس کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ اسلام آباد سے آنے والے بیانات کو زیادہ اہمیت نہیں دینا چاہتے۔
انہوں نے کہا ” سب سے پہلے، انہوں نے یہ بھی تسلیم نہیں کیا کہ پہلگام میں کچھ ہوا ہے، سب سے پہلے، انہوں نے کہا کہ اس کے پیچھے بھارت ہے۔ “











