امت نیوز ڈیسک //
سپریم کورٹ نے پہلگام حملے سے متعلق دائر درخواست پر سماعت کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ درخواست میں مطالبہ کیا گیاتھا کہ واقعے کی تحقیقات سپریم کورٹ کے سابق جج کی سربراہی میں قائم عدالتی کمیشن سے کرائی جائے۔ عدالت نے درخواست گزار کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ وہ ذمہ داری سے کام لیں۔جیسے ہی عرضی گزار کے وکیل نے اپنا مقدمہ پیش کرنے کی کوشش کی، جسٹس سوریہ کانت اور این کوٹیشور سنگھ کی بنچ نے ان سے پوچھا کہ کیا وہ واقعی سنجیدہ ہیں۔ جسٹس سوریہ کانت نے کہا، ‘جج تحقیقات کے ماہر کب سے بن گئے؟ ان کا کام قانونی تنازعات کو حل کرنا ہے۔
جسٹس سوریہ کانت نے کہاکہ کچھ ذمہ داری کا مظاہرہ کریں۔ ملک کے تئیں آپ کا بھی کچھ فرض ہے۔ اس معاملے پر پورا ملک متحد ہے۔ ایسی باتیں نہ کہی جائیں جس سے مسلح افواج کے حوصلے پست ہوں۔
درخواست گزار نے کہا کہ وہ اس مطالبے پر اصرار نہیں کریں گے۔ جج نے کہا پہلے آپ درخواست دائر کریں اور اس کی تشہیر کریں، پھر آپ عدالت کو بتائیں کہ آپ اپنے مطالبے پر اصرار نہیں کریں گے؟ اس کے بعد عدالت نے درخواست میں لکھے گئے تمام مطالبات پڑھے۔ متاثرین کو معاوضہ اور سیاحوں کی حفاظت کا بھی مطالبہ کیا گیاہے۔ عدالت نے کہا کہ ان میں ایسا کوئی معاملہ نہیں ہے جس میں سپریم کورٹ کو مداخلت کرنے کی ضرورت ہے۔
عرضی گزار نے جموں و کشمیر سے باہر پڑھنے والے طلباء کا مسئلہ اٹھایا۔ اس پر عدالت نے کہا کہ یہ بات آپ کی درخواست میں کہیں نہیں لکھی ہے۔ طلباء کے بارے میں کچھ کہنا ہے تو ہائی کورٹ جائیں۔ سپریم کورٹ میں درخواست فتح ساہو، جنید محمد اور وکی کمار نامی درخواست گزاروں نے دائر کی تھی۔ مرکز اور جموں و کشمیر حکومتوں کے علاوہ سی آر پی ایف، این ایس اے اور این آئی اے کو بھی اس میں فریق بنایا گیا تھا۔










