امت نیوز ڈیسک //
جموں: پاکستان نے ایک بار پھر لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر بلااشتعال فائرنگ کی، جس کا ہندوستانی فوج نے منہ توڑ جواب دیا۔ اطلاعات کے مطابق 5-6 مئی کی درمیانی شب پاکستان نے جموں و کشمیر کے کپواڑہ، بارہمولہ، پونچھ، راجوری، مینڈھر، نوشہرہ اور دیگر علاقوں پر فضائی حملے شروع کئے۔سندر بنی اور اکھنور کے آس پاس کے علاقوں میں جنگ بندی کی خلاف ورزی کی گئی۔
22 اپریل کو پہلگام حملے کے بعد ہندوستان اور پاکستان کے درمیان تناؤ بڑھتا جا رہا ہے۔ ایک بیان میں بھارتی فوج نے کہا رات کے وقت، پاکستانی فوج نے لائن آف کنٹرول کے پار کپواڑہ، بارہمولہ، پونچھ، راجوری، مینڈھر، نوشہرہ، سندربنی میں کئی راؤنڈ گولہ باری کی۔اور جموں و کشمیر کے اکھنور علاقوں میں چھوٹے ہتھیاروں سے بلا اشتعال فائرنگ کی۔ ہندوستانی فوج نے بھی مناسب جواب دیا۔
پاکستان نے اس سے قبل 04-05 مئی 2025 کی درمیانی رات کو جنگ بندی کی خلاف ورزی کی تھی۔ ابتدائی طور پر شمالی کشمیر کے کپواڑہ اور بارہمولہ اضلاع میں لائن آف کنٹرول کے ساتھ متعدد چوکیوں کو نشانہ بناتے ہوئے چھوٹے ہتھیاروں سے بلااشتعال فائرنگ شروع کرنے کے بعد،پاکستان نے جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پونچھ سیکٹر اور پھر جموں خطے کے اکھنور سیکٹر تک فائرنگ کی۔
اس کے بعد راجوری ضلع کے سندر بنی اور نوشہرہ سیکٹروں میں لائن آف کنٹرول کے ساتھ کئی چوکیوں پر چھوٹے ہتھیاروں سے فائرنگ کی گئی، جب کہ جموں ضلع میں بین الاقوامی سرحد کے ساتھ پرگوال سیکٹر میں گولی باری کی گئی۔
بھارت اور پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز نے 29 اپریل کو ہاٹ لائن پر بات چیت کی۔ اس دوران ہندوستان نے جموں و کشمیر میں کنٹرول لائن پر پاکستان کی طرف سے بلا اشتعال فائرنگ پر تبادلہ خیال کیا۔اس کے باوجود جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے فائرنگ کی جا رہی ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ بھارتی فریق نے پاکستانی فریق کو بلا اشتعال فائرنگ کے بارے میں خبردار کیا تھا۔










