امت نیوز ڈیسک //
نئی دہلی : ہندوستانی فوج نے اتوار کی شام ہندوستان پاکستان کشیدگی اور آپریشن سندھور پر ایک پریس کانفرنس کی۔ اس پریس کانفرنس میں ہندوستانی فوج کے تینوں ونگز، آرمی، ایئر فورس اور نیوی کے افسران موجود تھے۔ پریس کانفرنس میں فوج کے ڈی جی ایم او لیفٹیننٹ جنرل راجیو گھئی، بحریہ کے وائس ایڈمرل اے این پرمود ڈی جی، بحریہ کے نیول آپریشنز اور فضائیہ کے ایئر مارشل اے کے بھارتی ڈی جی، ایئر آپریشنز نے پریس کانفرنس میں شرکت کی۔ تینوں افسران نے پی پی ٹی کے ذریعے پورے آپریشن کی معلومات دیں۔ جس کے ذریعے بھارتی فوج کی جانب سے کی گئی کارروائی کے تمام ثبوت بھی دکھائے گئے
پاک فوج یا اس کے کسی انفراسٹرکچر کو نشانہ نہیں بنایا گیا: آرمی پی سی میں آرمی افسران کا مزید کہنا تھا کہ مریدکے میں ملی ٹینٹوں کے کیمپ کے بعد بہاولپور کے تربیتی کیمپ میں متعدد انفراسٹرکچرز کا انتخاب کیا گیا جہاں دہشت گردی سے زیادہ سے زیادہ نقصان ہو سکتا ہے۔ ہم نے ان دو کیمپوں کو نشانہ بنایا اور انہیں تباہ کر دیا۔ حکام نے یہ بھی واضح کیا کہ پاکستانی فوج اور کسی دوسرے انفراسٹرکچر کو نشانہ نہیں بنایا گیا
ڈی جی ایم او لیفٹیننٹ جنرل راجیور گھئی نے کہا کہ آپ سب اب تک اُس سنگدلانہ اور بےرحمانہ انداز سے واقف ہو چکے ہیں، جس میں 22 اپریل کو پہلگام میں 26 بے گناہ افراد کو بے دردی سے قتل کر دیا گیا۔ جب آپ ان ہولناک مناظر اور ان خاندانوں کے درد کو یاد کرتے ہیں، جو پوری قوم نے محسوس کیا، اور جب ان واقعات کو حالیہ دنوں میں ہماری مسلح افواج اور نہتے شہریوں پر ہونے والے متعدد حملوں سے جوڑتے ہیں، تو ہمیں یہ احساس ہوتا ہے کہ ایک قوم کے طور پر اپنے عزم کو ایک بار پھر واضح اور مضبوط انداز میں ظاہر کرنے کا وقت آ گیا ہے،آپریشن سندور’ کو ایک واضح فوجی مقصد کے ساتھ ترتیب دیا گیا — مجرموں اور منصوبہ سازوں کو سزا دینا اور ان کے نیٹ ورک کو تباہ کرنا۔ جو بات میں یہاں نہیں کہہ رہا، وہ ہے بھارت کا وہ پختہ عزم جو اکثر دہرایا جاتا ہے۔
یہ کارروائی ایک نہایت منظم اور باریک بینی سے کی گئی منصوبہ بندی کا نتیجہ تھی، جس کا مقصد سرحد پار ملی ٹینسی کے منظرنامے کو مکمل طور پر تبدیل کرنا اور ملی ٹینسیی کے ٹھکانوں اور ٹریننگ کیمپوں کی درست شناخت کرنا تھا۔ اگرچہ ایسے کئی مقامات کی نشاندہی کی گئی، لیکن مزید جائزے کے بعد یہ اندازہ ہوا کہ ان میں سے کچھ مقامات کو دہشت گرد پہلے ہی خالی کر چکے تھے، کیونکہ وہ ہمارے ممکنہ بدلے سے خوفزدہ تھے۔ہم نے یہ طے کیا تھا کہ صرف ملی ٹینٹوں کو نشانہ بنایا جائے گا اور کسی بھی قسم کے جانی نقصان یا شہری املاک کے متاثر ہونے سے بچا جائے گا۔ ان نو کیمپوں کو، جنہیں اب آپ سب جانتے ہیں، ہماری مختلف انٹیلیجنس ایجنسیوں نے مکمل تصدیق کے بعد ملی ٹینٹوں کی موجودگی والے کیمپس قرار دیا۔
لیفٹیننٹ جنرل راجیور گھئی نے مزید کہا کہ ان نو مراکز پر کی گئی کارروائیوں میں 100 سے زائد ملی ٹینٹ مارے گئے، جن میں یوسف اظہر، عبد المالک رؤف اور مدثر احمد جیسے شامل تھے، جو IC-814 کے ہائی جیک اور پلوامہ بم دھماکے میں ملوث تھے۔ ان کارروائیوں کے فوراً بعد پاکستان نے لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کی، اور دشمن کا گھبراہٹ بھرا، غیر متوازن ردعمل واضح ہو گیا — انہوں نے عام شہریوں، آباد دیہاتوں اور گردواروں جیسے مذہبی مقامات کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں کئی قیمتی جانوں کا نقصان ہوا۔










