امت نیوز ڈیسک ///
اگر الیکشن کمیشن آف انڈیا نے مختلف ریاستوں میں خالی پڑیں اسمبلی نشستوں کیلئے ضمنی چناﺅ کا اعلان کیا ہے لیکن بدقسمتی سے جموں وکشمیر کی دو خالی پڑی نشستوں اور چار راجیہ سبھا نشستوں کے انتخاب کا کوئی اعلان نہیں کیا گیا ہے کی بات کرتے ہوئے نیشنل کانفرنس کے ترجمانِ اعلیٰ تنویر صادق نے کہا کہ حالانکہ آئین کے مطابق نشست خالی ہونے کے بعد 6ماہ کے اندر اندر انتخابات کرانا لازمی ہے ۔ سی این آئی کے مطابق نیشنل کانفرنس کے ترجمانِ اعلیٰ تنویر صادق نے پارٹی ہیڈکوارٹر پر ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جموں وکشمیر میں 8ماہ سے دو اسمبلی نشستیں خالی اور سالہاسال سے راجیہ سبھا کی 4نشستوں پر بھی انتخاب نہیں ہو اہے۔ انہوں نے کہا کہ اُمید کی جارہی تھی کہ الیکشن کمیشن آف انڈیا دیگر ریاستوں میں ضمنی انتخابات کے ساتھ ہی یہاں کی دو نشستوں پر بھی چناﺅ کرائے جائیں گے لیکن بدقسمتی سے یہاں بھی جموں و کشمیر کیساتھ امتیازی سلوک روا رکھا گیا ہے جو آئین ہند و جمہوری اصولوں کے بالکل منافی ہے۔ ترجمانِ اعلیٰ نے الیکشن کمیشن آف انڈیا سے اپیل کی کہ جموںوکشمیر کیساتھ انصاف کیا جائے اور بڈگام و نگروٹہ حلقوں کیلئے انتخابات کا اعلان کیا جائے۔ ریاستی درجہ کی بحالی کا مطالبہ دہراتے ہوئے تنویر صادق نے کہا کہ مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ کے علاوہ کئی موقعوں پر اسمبلی انتخابات کے بعد ریاستی درجہ کی بحالی کا وعدہ کیا ہے لیکن اب ریاستی درجہ کی بحالی میں بلاوجہ دیر کیا جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر اپنا ریاستی درجہ حاصل کرنے کیلئے تیار ہے اور مرکزی حکومت بنا دیر کئے جموں وکشمیر کے عوام کو یہ حق واپس دینا چاہئے۔








