امت نیوز ڈیسک //
کئی برس سے تہاڑ جیل میں قید علیحدگی پسند لیڈر شبیر احمد شاہ کی صحت کے حوالے سے وادی کی سیاسی جماعتوں کی طرف سے تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے اور مرکزی سرکار سے انہیں طبی سہولیات فراہم کرنے کی مانگ کی جا رہی ہے۔ اس حوالے سے آج این سی رکن پارلیمان آغا روح اللہ نے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کو ایک خط لکھ کر شبیر احمد شاہ کی بگڑتی صحت پر گھری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
انہوں نے وزیر داخلہ سے اپیل کی ہے کہ شبیر شاہ کو وقار کے ساتھ مناسب طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔امت شاہ کو لکھے گئے خط میں روح اللہ نے واضح کیا کہ شبیر احمد شاہ کو کئی سنگین طبی مسائل لاحق ہیں، جن میں پروسٹیٹ کینسر شامل ہے، جس کے لیے ڈاکٹروں نے تین سرجریاں تجویز کی ہیں۔روح اللہ نے مزید لکھا کہ ان کی حالت نہایت نازک ہے، اس کے باوجود وہ 2017 سے زیر حراست ہیں اور انہیں اہل خانہ کی حمایت بھی حاصل نہیں ہے۔
انہوں ں ے مزید لکھا کہ یکم مئی 2025 کو صفدر جنگ اسپتال میں طبی معائنے کے دوران ان کے اہل خانہ نے الزام لگایا کہ انہیں افسران کی جانب سے ہر انسانی اور توہین آمیز سلوک کا سامنا کر نا پڑا، اور ان کے طبی ریکارڈز تک رسائی بھی روک دی گئی۔۔۔۔روح اللہ مہدی نے آخر میں اپیل کی کہ شبیر شاہ کو ایک ایسے اسپتال میں منتقل کیا جائے جو کینسر کے علاج کی مکمل سہولیات رکھتا ہوتا کہ ان کا وقار کے ساتھ علاج ممکن ہو سکے۔
اس سے قبل محبوبہ مفتی نے شبیر شاہ کی بیٹی کی اپیل پر مرکزی وزیر داخلہ سے توجہ دینے کی اپیل کرتے ہوئے انسانی بنیاد پر ان کا علاج کرانے کی مانگ کی۔ اسی طرح سے سجاد غنی لون نے بھی ایسک پرا یک پوسٹ میں تشویش کا اظہار کرتے ہوئے علاج کو بنیاد ی حق قرار دیتے ہوئے مانگ کی کہ انہیں طبی سہولیات تک رسائی دی جائے۔










