امت نیوز ڈیسک //
ایران کے درمیان 12 روزہ جنگ کے بعد اب جنگ بندی عمل میں آ گئی ہے۔ ادھر ایران نے اسرائیل کے لیے جاسوسی کرنے والوں کی تلاش اور سزائیں دینا شروع کر دی ہیں۔ اسی سلسلے میں ایران نے جاسوسی کے الزام میں آج صبح تین افراد کو موت کی سزا سنائی جبکہ مجموعی طور پر 700 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔
ایران نے اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد سے وابستہ تین جاسوسوں کو سزائے موت سنائی ہے۔ ان پر موساد کے لیے جاسوسی کرنے اور قتل کے لیے ہتھیار فراہم کرنے کا الزام تھا جو کہ تفتیش میں درست پایا گیا۔ ایران اب اپنے ملک میں چھپے اسرائیلی ایجنٹوں کو تلاش کر رہا ہے، کیونکہ اسرائیلی حملوں کے بعد موساد کے انٹیلی جنس نیٹ ورک کے بارے میں خدشات بڑھ گئے ہیں۔
ایران کا خیال ہے کہ اسرائیلی جاسوسوں نے جوہری تنصیبات سے متعلق خفیہ معلومات افشا کی تھیں۔ ایران میں اب تک چھ افراد کو پھانسی دی جا چکی ہے۔
ارمیا جیل میں پھانسی
ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ‘IRNA’ کے مطابق بدھ کو ایران کے مغربی آذربائیجان صوبے کی ارمیا جیل میں پھانسی دی گئی۔ مغربی آذربائیجان ملک کا سب سے زیادہ شمال مغربی صوبہ ہے۔ ‘IRNA’ نے خبر میں ایران کی عدلیہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان افراد پر ملک میں ہتھیار لانے کا الزام ہے۔ ایران نے اسرائیل کے ساتھ جنگ کے دوران بہت سے لوگوں کو پھانسی دی ہے۔
آزاد شجاعی، ادریس علی اور عراقی شہری رسول احمد رسول کو بدھ کے روز ایران کے مغربی آذربائیجان صوبے کی ارمیا جیل میں پھانسی دی گئی۔ ایران کی عدلیہ کے مطابق ان افراد پر ملک میں قتل کا سامان لانے کا الزام تھا۔ ایران نے اسرائیل کے ساتھ تنازع کے دوران تقریباً چھ افراد کو پھانسی دی ہے۔اب تک 700 افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔
اب تک 6 افراد کو پھانسی
انسانی حقوق کے کارکنوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ تنازع ختم ہونے کے بعد مزید بہت سے لوگوں کو پھانسی دی جا سکتی ہے۔ ایران نے پھانسی پر لٹکائے گئے تین افراد کی شناخت آزاد شجاعی، ادریس علی اور عراقی شہری رسول احمد رسول کے نام سے کی ہے۔ بدھ کو پھانسی دیے جانے کے بعد 16 جون سے جنگ کے دوران جاسوسی کے الزام میں سزائے موت پانے والوں کی کل تعداد چھ ہو گئی ہے۔










