امت نیوز ڈیسک //
مرکزی حکومت سے اپنے ارادوں کو صاف کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا کہ اگر جموں کشمیر کے ریاستی درجہ کی بحالی کیلئے بی جے پی کے وزیر اعلی کی ضرورت ہے تو میں ایک طرف ہٹ جاو¿ں گا، لیکن مرکز ایمانداری کا مظاہرہ کریں ۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کی حکومت اپنی پانچ سالہ میعاد میں جموں و کشمیر کے عوام سے کیے گئے وعدوں کو پورا کرنے کیلئے پوری طرح پرعزم ہے۔
سی این آئی کے مطابق ایک مقامی خبر رساں ادارے کے ساتھ بات کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ عمر عبد اللہ نے کہا کہ اگر جموں کشمیر کے ریاستی درجہ کی بحالی کیلئے بی جے پی کے وزیر اعلی کی ضرورت ہے تو میں ایک طرف ہٹ جاو¿ں گا، لیکن مرکز کو ایماندار رہنا ہوگا ۔ عمر عبد اللہ نے کہا کہ مرکزی حکومت کو واضح طور پر بتانا چاہیے کہ آیا ریاست کا درجہ صرف بی جے پی کی زیرقیادت جموں و کشمیر میں حکومت کے تحت دیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ”اگر ریاست کو بی جے پی کے وزیر اعلیٰ کی ضرورت ہے تو میں ایک طرف ہٹ جاوں گا۔
کم از کم جموں و کشمیر کے لوگوں کو ان کی ریاست کا درجہ واپس مل جائے گا“۔عمر عبد اللہ نے کہا کہ ان کی حکومت اپنی پانچ سالہ میعاد میں جموں و کشمیر کے عوام سے کیے گئے وعدوں کو پورا کرنے کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ توقعات کو جمہوری ٹائم لائنز کے مطابق ہونا چاہیے، اور یہ کہ انہیں دیا گیا مینڈیٹ پانچ ہفتوں یا ماہ کیلئے نہیں بلکہ پوری مدت کیلئے ہے۔عمر عبد اللہ نے کہا کہ گزشتہ سال کے مقابلے بجلی کی فراہمی میں بہتری آئی ہے اور بنیادی ڈھانچے کے اہم منصوبوں کو آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ مظفر حسین بیگ کے اس ریمارکس پر رد عمل دیتے ہوئے کہ اگر وہ کارکردگی نہیں دکھا سکتے تو استعفیٰ دے دیں۔ عمر عبد اللہ نے کہا کہ میں استعفیٰ کیوں دوں، کیا 2016 میں کسی نے استعفیٰ دیا جب لوگ مر رہے تھے، اس وقت ہم دودھ اور ٹافیوں کے بارے میں سن رہے تھے، کبھی معافی نہیں مانگی گئی۔انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت نے اپنے مینڈیٹ سے غداری نہیں کی۔
انہوں نے کہا ” کیا آپ کو توقع تھی کہ اسمبلی خصوصی درجہ کی قرارداد پاس کرے گی؟ آپ نے ایسا نہیں کیا۔ لیکن ہم نے ایسا کیا۔ “ ریزرویشن کے معاملے پر عمر نے کہا کہ معاملہ قانونی وضاحت کے لیے محکمہ قانون کو بھیج دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا ”ہم اس بات کو یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ کابینہ کا کوئی فیصلہ عدالت میں نہ پھنس جائے۔ اسی لیے ہم نے مناسب عمل کی پیروی کی ہے۔“ عمر عبد اللہ نے پی ڈی پی قائدین پر بھی تنقید کی کہ وہ خاموش رہے جب ریزرویشن کوٹہ بڑھایا جارہا تھا۔ اس وقت محبوبہ مفتی کی آواز کہاں تھی؟ سجاد لون کی آواز کہاں تھی؟ وہ سرکاری مکانات اور سیکورٹی کی تلاش میں مصروف تھے۔
۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ پی ڈی پی قائدین نے اپنے ووٹ بینک کی حفاظت کے لئے ریزرویشن کے مسئلہ کے خلاف بولنے سے گریز کیا۔ "وہ راجوری پونچھ میں پہاڑی اور گجر ووٹ چاہتے تھے۔ اس لیے انہوں نے اپنے امیدواروں سے کہا کہ وہ ریزرویشن کے بارے میں ایک لفظ بھی نہ بولیں۔” انہوں نے مزید کہا کہ اب الیکشن ہارنے کے بعد وہ اچانک آواز اٹھا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت کوئی ایسا اقدام نہیں کرے گی جسے بعد میں قانونی طور پر چیلنج کیا جا سکے۔ انہوں نے مزید کہا ”ہم ایسے فیصلے کرنا چاہتے ہیں جو قانونی طور پر درست اور لوگوں کے لیے فائدہ مند ہوں“۔








