یوکرین روس جنگ کے بعد غزہ میں اسرائیلی جنگی جنون اور جارحیت کا دور ابھی تک ختم نہیں ہوا تھا کہ انسانیت کو ایک اور خوف ناک جنگ کا سامنا کرنا پڑ ا۔ اسرائیل نے جب ایران کے خلاف بے خوف اور کھلے عام جارحیت کا آغاز کیا تو شاید دنیا میں طاقت رکھنے والے اسرائیل نے اندازہ نہیں کیا تھا کہ وہ جس آگ کو ہوا دے دینے جا رہا ہے وہ صرف تہران میں ہی نہیں جلائے گی بلکہ تل ابیب، حیفہ اور اشدود تک ہر ایک کو جلا کر خاکستر کر دے گی۔
اسرائیل نے رات کے وقت اور سناٹے کا فائدہ اٹھا کر ایران پر زور دار حملے کر کے اس کو جانی و مالی دونوں طرف سے نقصان پہنچایا ہے۔ اسرائیلی حملوں میں صرف عمارات نہیں گریں بلکہ ایران کی فوجی قیادت کے کئی سربراہ بھی جاں بحق ہوئے۔ جن میں جنرل حسین سلامی، جنرل باقری اور جنرل غلام علی راشد جیسے زبردست سپہ سالاروں کا خون اسرائیلی میزائلوں سے بہا۔ اس کے علاوہ چھ سائنس دانوں سمیت درجنوں ایرانی اہلکار بھی مارے گئے۔ لیکن دنیا جانتی ہے کہ ایران خاموش بیٹھنے والوں میں سے نہیں ہے۔ چناں چہ اس نے فوراً زبردست جوابی کارروائی کرکے اسرائیل کو منہ توڑ جواب دیا اور پھر دنیا نے موت کا ننگا ناچ دیکھا۔
آپ کو بتا دوں کہ اسرائیل کے ساتھ جنگ کرنا بڑا بہادری والا کام ہوتا ہے، ہر کسی ملک میں اتنی جرأت نہیں کہ وہ اسرائیل جیسی طاقت سے مقابلہ کرسکے۔ ایران کے حملوں کے باوجود اسرائیل کے ڈرون اور میزائل انٹرسیپٹ کرنے کی ٹیکنالوجی نے اسے بڑا فائدہ پہنچایا ہے۔ اگرچہ اس کے باوجود بھی اسرائیل کا بہت سارا نقصان ہوا۔ ’’اسرائیل ٹائمز‘‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق اسرائیل نے ایران پر حملہ ایران کے اندر سے کیا۔ اسرائیل نے ساری منصوبہ بندی بڑی چالاکی سے کی اور جو میزائل داغے وہ بھی ایران کے اندر سے داغے۔ اسرائیل یہ چالاکیاں پچھلے کئی سالوں سے کر رہا تھا، ہزاروں لوگ ایران کے اندر موجود تھے جو بنیادی طور پر اسرائیل کے ہی ایجنٹ تھے، ایرانی دفاعی ساز و سامان کی خبر بھی ان ایجنٹوں کے ذریعے اسرائیل کو پہنچتی رہی تھی۔ گویا ایران کے اندر اسرائیلی فوج تیار ہو رہی تھی، جس میں اسرائیل کافی حد تک کامیاب بھی ہوا مگر ایران ’’پراکسی وار‘‘ اور ’’مسلکی و مذہبی جنگ‘‘ میں اپنے ہم خیال گروپ تیار کرنے میں مصروف تھا۔
اسرائیل کے لگ بھگ 250 طیاروں نے اردن اور عراق کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایران کے اندر 150 کے قریب ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جن میں ایران کی جوہری تنصیبات‘ ملٹری ہیڈ کوارٹرز اور بیلسٹک میزائل کی فیکٹریاں اور لانچنگ پیڈ وغیرہ شامل ہیں۔ ذرائع کےحوالے سے میڈیا خبروں میں بتایا گیا کہ اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد نے ایران کے متعدد چوٹی کے ملٹری کمانڈروں اور جوہری سائنس دانوں کو بھی ٹارگٹ کیا تھا۔ اس کے بعد اسرائیلی وزیر اعظم کا اس حملے کے بارے میں ایک بڑا بیان سامنے آتا ہے جس میں انہوں نے کہا کہ اسرائیل نے ایران کے جوہری پروگرام اور بیلسٹک میزائل سسٹم کے مرکزی مقامات کے علاوہ ایران کی چوٹی کی عسکری قیادت اور سائنس دانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران پر حملے کی یہ ابھی صرف شروعات ہے، اس کا دوسرا حصہ جلد ہی آپ کو دیکھنے کو ملے گا۔
اب سوال یہ ہے کہ دنیا کو چلانے والے امریکہ کو اگر یہ پتا تھا کہ اسرائیل ایران پر حملہ کرنے جا رہا ہے تو اس نے اسرائیل کو ایک بار بھی روکنے کی کوشش کیوں نہیں کی؟ کیونکہ سب کو پتا ہے کہ اگر امریکہ روکنے کی ذرا سی بھی کوشش کرتا تو یہ ہو نہیں سکتا کہ اسرائیل امریکہ کی بات نہ مانے۔ خبروں میں یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ امریکہ نے اسرائیل کو روکنے کی کوششیں کیں لیکن اسرائیل نے اس کی کوئی بات نہیں سنی اور اپنا کام کر دیا۔ آپ کو بتا دیں کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران کو دھمکی دی تھی کہ وہ ابھی اور اسی وقت امریکہ کے ساتھ ایٹمی معاہدے کے لیے تیار ہو جائے ورنہ اس کا انجام برا ہوگا۔ اس دھمکی والے بیان کے بعد امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایک اور بڑا بیان دیا کہ اسرائیل اور ایران کو معاہدہ کرنا چاہیے اور وہ دونوں ممالک کا اسی طرح معاہدہ کروائیں گے جس طرح سے انہوں نے بھارت اور پاکستان کا کروایا تھا۔ امریکی صدر نے پاکستان اور بھارت کی قیادت کا حوالہ دیتے ہوئے سوشل میڈیا پوسٹ پر لکھا کہ دونوں اطراف کے رہنماؤں نے سمجھ داری اور عقل مندی دکھائی اور فوری طور پر جنگ روکنے پر آمادہ ہوگئے۔
ایران پر اسرائیلی حملے کا اصل مقصد ایران امریکہ مذاکرات کو ناکام بنانا تھا اور اس کے نتیجے میں فی الحال مذاکرات کا کوئی بھی امکان نہیں ہے۔ حیران کن بات ہے کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اسرائیل کی بدنیتی اور ایران کے خلاف ان کی جارحیت کے باوجود اپنے عملی رویے سے اسرائیل کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں جبکہ اس کا نتیجہ پوری دنیا میں ایک خطرناک جنگ کی صورت میں نکل سکتا ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں چین نے اسرائیل کو ہی غلط ٹہرایا اور اسرائیل کو ریڈ لائن عبور کرنے کا ذمہ دار بھی قرار دیا، اس کے علاوہ روس نے اسرائیلی حملوں کو بلا جواز ٹھیرایا جبکہ امریکہ نے اسرائیلی جارحیت کے خلاف ایک لفظ تک نہیں کہا اور یہ تسلیم کیا کہ اسے قبل از وقت ایران کے خلاف اسرائیلی کارروائی کا علم تھا۔ لیکن امریکہ اسرائیل کے دفاع کے لیے اس کے ساتھ کھڑا ہے۔
امریکہ کا یہ رویہ انتہائی افسوس ناک اور پریشان کن ہے اور اس کا نتیجہ دنیا کو تیسری جنگ عظیم کی صورت میں بھگتنا پڑسکتا ہے۔ اگر ہم اسرائیل اور ایران کی عسکری طاقت کا موازنہ کریں تو گلوبل فائر پاور انڈیکس کے مطابق اسرائیل پوری دنیا میں 15 ویں جبکہ ایران 16 ویں نمبر پر ہے۔ یعنی ایران بھی اچھی طاقت رکھتا ہے۔ بظاہر اسرائیل کا سالانہ دفاعی بجٹ لگ بھگ 27 ارب ڈالر ہے جب کہ ایران صرف 10 ارب ڈالر خرچ کرتا ہے۔ ایران کے پاس 6 لاکھ 10 ہزار فعال فوجی ہیں جن میں پاسدارانِ انقلاب کے ایک لاکھ 90 ہزار گارڈز بھی شامل ہیں جبکہ اسرائیل کی حاضر سروس فوج ایک لاکھ 70 ہزار پر مشتمل ہے۔ اسرائیل اپنی فضائیہ پر زیادہ بھروسا کرتا ہے اور اسے اپنی طاقت سمجھتا ہے۔ اس کے پاس 340 فائٹر جیٹ ہیں جن میں ایف-35، ایف-16 اور ایف-15 ہیں جن میں جدید طیارے بھی شامل ہیں۔ ایران کے پاس شہاب، قدر، ذوالفقار، سومار، عماد اور ہائپر سونک الفتح جیسے بیلسٹک اور کروز میزائل موجود ہیں جن کی رینج 350 کلومیٹر سے لے کر 2500 کلومیٹر تک ہے۔ یہی نہیں ایران کے ڈرونز نے اسرائیلی دفاعی نظام میں وہ ہلچل پیدا کی ہے جسے دنیا کا کوئی آئرن ڈوم مکمل طور پر روک نہیں کر سکا۔ اس کے علاوہ شہید 129 اور شہید 136 جیسے ڈرونز اسرائیلی رڈار سسٹم کو روکنے میں کامیاب رہے جب کہ اسرائیل کے ہیرون اور ہیروپ ڈرونز صرف روایتی ردعمل کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔
مضبوط قوتوں کے درمیان جب جنگ اپنے ساتھ صرف تباہی ہی لاتی ہے۔ وقتی طور پر اس سے اشرافیہ اور جنگی جنون میں مبتلا افراد کی انا کو تسکین تو ملتی ہے جب کہ عام لوگ جنگ کی زد میں سب سے پہلے آتے ہیں: مرتے ہیں، زخمی ہوتے ہیں، ان کو ہجرت کرنی پڑتی ہے؛ عمارتیں، گھر کاروباری ادارے سب تباہ ہو جاتے ہیں۔ معاشی، معاشرتی اور سماجی نظام درہم برہم ہوجاتا ہے۔ لہٰذاپوری عالمی برادری کو جنگ کی اس آگ کو مزید بھڑکنے سے پہلے بجھانے کی نتیجہ خیز تدابیر کرنی ہوں گی جس میں سب سے اہم امریکی صدر ٹرمپ کو عالمی امن کے حوالے سے درست رویہ اپنانے پر آمادہ کرنا ہوگا۔











