امت نیوز ڈیسک //
سرینگر: جنوبی بھارت کے ایک اسپتال میں داڑھی رکھنے کی اجازت نہ ملنے پر کشمیر سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان مسلم ڈاکٹر نے سپر اسپیشلٹی میڈیکل پروگرام سے دستبرداری اختیار کر لی ہے۔ اس واقعے کے بعد ڈاکٹر نے وزیر اعلیٰ ایم کے اسٹالن سے مداخلت کی اپیل کی ہے۔
ڈاکٹر زبیر احمد نے نیشنل الیجبلٹی کاؤنسلنگ کے تحت تمل ناڈو کے کوی میڈیکل سینٹر اینڈ ہاسپٹل (KMCH)، کوئمبتور میں ڈاکٹر آف نیفرو لوجی (DrNB) کے کورس میں داخلہ حاصل کیا تھا۔ تاہم جب وہ اسپتال میں رپورٹ کرنے پہنچے، تو اُن سے ایک ایسی پالیسی پر دستخط کرنے کو کہا گیا جس میں داڑھی رکھنے کی ممانعت تھی۔ ڈاکٹر کے مطابق، یہ شرط اُن کے مذہبی عقائد سے متصادم ہے۔
جموں و کشمیر اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن نے اس معاملے پر ایم کے اسٹالن کو خط لکھا ہے جس میں اسے مذہبی امتیاز قرار دیا گیا ہے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ ڈاکٹر زبیر نے پیشہ ورانہ حفظان صحت کے تمام تقاضے پورے کرنے اور سرجیکل ماسک پہننے کی پیشکش کی، لیکن اسپتال انتظامیہ نے اسے مسترد کر دیا۔
ایسوسی ایشن کے نیشنل کنوینر ناصر کھویہامی نے بتایا: ’’ڈاکٹر کو واضح طور پر کہا گیا کہ جب تک وہ داڑھی نہیں منڈوائیں گے، داخلہ ممکن نہیں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ڈاکٹر زبیر نے سرینگر کے شیر کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (SKIMS) سے MBBS، MD اور سینئر ریذیڈنسی مکمل کی ہے، اور وہاں ایسی کوئی پابندی نہیں تھی۔
ڈاکٹر زبیر نے بعد ازاں پروگرام سے باقاعدہ دستبرداری اختیار کر لی اور کہا کہ داخلے کے دوران اسپتال کی گرومنگ پالیسی کے بارے میں کوئی وضاحت نہیں دی گئی تھی۔ انہوں نے نیشنل بورڈ آف ایگزامینیشنز ان میڈیکل سائنسز (NBEMS) سے گزارش کی ہے کہ انہیں آئندہ مرحلے کی کاؤنسلنگ میں حصہ لینے اور دو لاکھ روپے کی سیکیورٹی فیس واپس کرنے کی اجازت دی جائے۔
ایسوسی ایشن نے اس پالیسی کو آئین ہند کے آرٹیکل 25 کی خلاف ورزی قرار دیا ہے جو مذہبی آزادی کی ضمانت دیتا ہے۔ اسٹالن کو لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے: ’’میڈیکل تعلیم، اخلاقیات یا مریضوں کی نگہداشت کے لیے صاف ستھرا ’کارپوریٹ‘ روپ لازمی نہیں ہے۔‘‘ ناصر کھویہامی کے مطابق ’’ایسی پالیسیاں امتیازی اور اخراجی نوعیت کی ہوتی ہیں، اور داخلے کے بعد ان کا اطلاق آئینی اقدار کی نفی کرتا ہے۔‘‘
ایسوسی ایشن نے اس پر مایوسی کا اظہار کیا ہے کہ یہ واقعہ تمل ناڑو جیسی ریاست میں پیش آیا جو اپنی ترقی پسند حکومت اور شمولیت کی روایات کے لیے جانی جاتی ہے۔ خط میں زور دیکر کہا گیا ہے: ’’تمل ناڑو ہمیشہ سے سماجی شمولیت کی علامت رہا ہے۔ ایسا واقعہ نہ صرف اس روایت کو مجروح کرتا ہے بلکہ اقلیتوں کے طلبہ کو وہاں تعلیم کے مواقع تلاش کرنے سے بھی باز رکھ سکتا ہے۔‘‘
ایسوسی ایشن نے وزیر اعلیٰ سے اپیل کی ہے کہ وہ ریاست بھر میں ادارہ جاتی پالیسیوں کو آئینی اقدار کے مطابق بنانے کے لیے اقدامات اٹھائیں تاکہ آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام ہو سکے۔







