امت نیوز ڈیسک //
سرینگر : کرائم برانچ، کشمیر، نے جمعرات کو وسطی کشمیر کے سرینگر اور بڈگام اضلاع میں کئی مقامات پر چھاپے مارے، جو، ان کے مطابق، ایک بڑے زمین گھپلے اور ریونیو ریکارڈ میں مبینہ جعل سازی سے جڑا معاملہ ہے۔ کرائم برانچ نے اس ضمن میں سابق تحصیلدار بالہامہ، ایک سابق پٹواری سمیت دیگر سات افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا۔
کرائم برانچ نے اس ضمن میں تفصیلات فراہم کرتے ہوئے کہا کہ سابق تحصیلدار بالہامہ، نصرت عزیز، اس وقت کے پٹواری عاشق علی سمیت سات افراد کے خلاف بدعنوانی، دھوکہ دہی اور ریکارڈ میں جعل سازی کے الزامات کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔
ایس ایس پی کرائم برانچ، وحید احمد شاہ، نے سرینگر میں ایک پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ تفتیش کا آغاز زمین کی خریدار سے متعلق درج کی گئی کی شکایت کے بعد ہوا، جس میں شکایت کنندہ، ایک خاتون، نے الزام عائد کیا کہ ضلع گاندربل کے بالہامہ علاقے میں زمین خریدنے کے بعد اسے اس بات کا انکشاف ہوا کہ کاغذات میں جعل سازی کی گئی ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ معاملہ درج کیے جانے کے بعد فوری طور پر تفتیش شروع کی گئی اور ابتدائی طور پر اس بات کا انکشاف ہوا کہ ملزمان نے سیل ڈیڈز (Sale Deeds) میں خسرہ نمبروں میں رد و بدل کرتے ہوئے جعلی انٹری تیار کرکے مبینہ طور پر ریاض احمد بٹ نامی ایک مقامی شخص کو فائدہ پہنچایا، جس نے بعد میں وہ زمین فروخت کر دی جو دراصل اس کی ملکیت میں ہی نہیں تھی۔
کرائم برانچ کے مطابق اس ضمن میں مزید تفتیش کرنے کے بعد انکشاف ہوا کہ اس معاملے میں کئی افراد ملوث ہیں جو بڑے پیمانے پر اس طرح کے رد و بدل کرتے آ رہے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ خاتون تحصیلدار کے خلاف اس سے قبل بھی بدعنوانی کا معاملہ درج کیا جا چکا ہے اور ایک معاملے میں اس نے ایک کنال اراضی بھی اپنے نام کی ہے۔
ایس ایس پی کے مطابق اس معاملے میں ایف آئی آر نمبر 14/2025 بدعنوانی ایکٹ کی متعدد دفعات کے تحت درج کی گئی اور کورٹ سے باضابطہ طور اجازت نامہ (وارنٹ) حاصل کرکے سرینگر اور بڈگام میں کل سات مقامات پر چھاپے مارے گئے۔










