امت نیوز ڈیسک//
ہندوستان نے نیٹو کے نئے سیکریٹری جنرل مارک روٹے کے اس بیان پر سخت ردِعمل ظاہر کیا ہے، جس میں انھوں نے روس سے تجارت جاری رکھنے والے ممالک خصوصاً ہندوستان، چین اور برازیل کو ’’انتہائی سخت پابندیوں‘‘ کی دھمکی دی تھی۔ ہندوستانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے اسے عالمی توانائی پالیسی میں ’’دوہرا معیار‘‘قرار دیا اور کہا کہ ہندوستان اپنی توانائی کی ضروریات کو سامنے رکھتے ہوئے فیصلے کرتا ہے۔
مارک روٹے نے واشنگٹن میں امریکی قانون سازوں سے ملاقات کے بعد کہا تھا کہ ہندوستان، چین اور برازیل جیسے ممالک اگر روس کے ساتھ کاروبار جاری رکھتے ہیں تو انھیں اس کا ’’بڑا خمیازہ‘‘ بھگتنا پڑ سکتا ہے۔ مارک روٹے نے کہا تھا کہ ’’اگر آپ دہلی یا بیجنگ میں رہتے ہیں تو آپ کو سنجیدگی سے سوچنا چاہیے، کیوں کہ یہ صورت حال آپ کو بری طرح متاثر کر سکتی ہے۔‘‘
روٹے کے یہ بیانات ایسے وقت میں آئے ہیں جب سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روسی تیل پر 100 فیصد ٹیکس عائد کرنے کا عندیہ دیا ہے، جو روس کی جانب سے یوکرین میں جنگ بندی کے لیے سنجیدہ اقدامات نہ کیے جانے کی صورت میں 50 دنوں کے اندر نافذ کیے جا سکتے ہیں۔
واضح رہے کہ ہندوستان اس وقت روسی خام تیل کا سب سے بڑا خریدار ہے، جو جولائی 2025 کے مطابق بھارت کی کل درآمدات کا 42 فیصد ہے، یعنی روزانہ تقریباً 2.08 ملین بیرل۔ یہ تیل کم قیمت پر خریدا جاتا ہے اور ہندوستانی ریفائنریاں اسے پراسیس کر کے دیگر ممالک، حتیٰ کہ G7 ممالک کو بھی برآمد کرتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق اگر روسی نژاد تیل پر اضافی محصولات عائد کیے گئے تو ہندوستانی برآمدات عالمی مارکیٹ میں غیر مسابقتی ہو جائیں گی۔ وہیں ہندوستان نے روس سے تیل کی خریداری کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ عالمی پابندیوں کی پاسداری کرتا ہے لیکن یک طرفہ دباؤ کو اپنی قومی مفاد پر اثر انداز نہیں ہونے دے گا۔









