امت نیوز ڈیسک //
سری نگر، 31 جولائی: غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام سے متعلق ٹربیونل سری نگر میں دو روزہ سماعت کل سے شروع کرے گا، تاکہ مرکزی حکومت کی جانب سے عوامی ایکشن کمیٹی کو "غیر قانونی تنظیم” قرار دینے کے فیصلے کا جائزہ لیا جا سکے۔ اس تنظیم کی قیادت کشمیر کے سرکردہ مذہبی رہنما میر واعظ عمر فاروق کر رہے ہیں۔
یو اے پی اے ٹربیونل کے رجسٹرار کے مطابق، سماعتوں کی صدارت دہلی ہائی کورٹ کے جسٹس سچن دتہ کریں گے۔ یہ کارروائی یکم اگست کو دوپہر 2 بجے سے شیرِ کشمیر انٹرنیشنل کانفرنس سینٹر میں شروع ہوگی اور 2 اگست کو صبح 11 بجے سے جاری رہے گی۔
یاد رہے کہ رواں سال مارچ میں وزارت داخلہ نے مبینہ ملک دشمن سرگرمیوں، دہشت گردی کی حمایت اور علیحدگی پسندی کو ہوا دینے کے الزامات پر جموں و کشمیر کی دو تنظیموں، عوامی ایکشن کمیٹی اور محمد عباس انصاری کی قیادت والی جموں و کشمیر اتحاد المسلمین پر پانچ سال کے لیے پابندی عائد کی تھی۔ دونوں تنظیمیں حریت کانفرنس کا حصہ تھیں، جس کی قیادت میر واعظ عمر فاروق کر رہے تھے۔
ٹربیونل کی جانب سے ایک عوامی نوٹس جاری کیا گیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ اگر کوئی فرد یا ادارہ حکومت کی جانب سے تنظیم کو "غیر قانونی” قرار دینے پر اعتراض، شواہد یا نمائندگی دینا چاہے تو وہ سماعت سے کم از کم تین دن قبل ٹربیونل کے رجسٹرار کے پاس حلف نامہ جمع کرائیں۔
نوٹس میں مزید کہا گیا: "ایسے تمام افراد کو مقررہ تاریخوں پر ذاتی حیثیت میں ٹربیونل کے سامنے پیش ہونا ہوگا تاکہ ان پر جرح کی جا سکے، اگر ضروری ہو۔”








