امت نیوز ڈیسک //
جموں: جموں و کشمیر میں حالیہ بارشوں اور تباہ کن سیلاب کے پس منظر میں مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے پیر کو جموں کے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا۔ ان کے ہمراہ یونین ٹیریٹری کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا بھی موجود تھے۔ امیت شاہ نے جموں میں بکرم چوک کے قریب دریائے توی کے کناروں پر پہنچ کر نقصان کا جائزہ لیا اور بعد ازاں راج بھون میں ایک اعلیٰ سطح کے جائزہ اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس میں قائد حزب اختلاف اور بی جے پی لیڈر سنیل شرما بھی شریک تھے۔
امیت شاہ نے کیا فضائی معائنہ
فوجی ہیلی کاپٹر کے ذریعے امیت شاہ نے منگوچک گاؤں سمیت سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں کا فضائی معائنہ کیا۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 14 اگست سے اب تک کشتواڑ، کٹھوعہ، ریاسی اور رام بن اضلاع میں بادل پھٹنے، لینڈ سلائیڈنگ اور اچانک آنے والے سیلابی ریلوں میں سو سے بھی زائد افراد ہلاک اور 33 لاپتہ ہو چکے ہیں۔
یاترا ہنوز معطل
انتظامیہ کے مطابق 34 یاتری 26 اگست کو ماتا ویشنو دیوی کی یاترا کے دوران لینڈ سلائیڈنگ کی زد میں آ کر ہلاک ہو گئے تھے۔ ادھر، خراب موسم کے باعث آج ساتویں دن بھی یاترا معطل رہی جبکہ کٹرا بیس کیمپ سنسان دکھائی دے رہا ہے۔ پیر کی صبح موسم میں معمولی بہتری کے بعد امید پیدا ہوئی کہ یاترا جلد بحال ہو سکتی ہے، تاہم حکام نے واضح کیا کہ اجازت صرف متعلقہ ایجنسیوں کی کلیئرنس کے بعد دی جائے گی۔
سرینگر جموں قومی شاہراہ
دوسری جانب سرینگر جموں نیشنل ہائی وے پر ٹریفک جزوی طور پر بحال کر دیا گیا ہے۔ یہ شاہراہ چھ روز تک لینڈ سلائیڈنگ، مٹی کے تودے گرآنے اور سڑک دھنسنے کے سبب بند تھی۔
معلوم ہوا ہے کہ امیت شاہ کشتواڑ ضلع کا بھی دورہ کر سکتے گے تاکہ بادل پھٹنے اور اچانک سیلابی ریلے سے ہوئے نقصانات کا جائزہ لے سکیں۔ دورے کے دوران وہ رابطہ بحالی، متاثرہ خاندانوں کی بازآبادکاری اور دیگر اہم فیصلوں کا اعلان بھی کر سکتے ہیں۔ وزیر داخلہ آج شام نئی دہلی واپس روانہ ہوں گے۔








