امت نیوز ڈیسک //
سرینگر، 5 ستمبر: جموں و کشمیر میں عید میلادالنبی ﷺ کی تعطیل کو چاند دیکھنے کے مطابق تبدیل نہ کرنے پر انتظامیہ شدید تنقید کی زد میں ہے۔ اس معاملے نے سیاسی اور مذہبی رہنماؤں کے درمیان سخت ردعمل کو جنم دیا ہے۔
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے ردعمل میں ایل جی کی قیادت والی انتظامیہ پر دانستہ طور پر تقویم (کلینڈر) کی شقوں کو نظر انداز کرنے کا الزام لگایا۔ انہوں نے لکھا:
“حکومت کے پریس سے شائع شدہ کلینڈر بالکل واضح ہے – ‘چاند کی رویت کے تابع’۔ اس کا مطلب ہے کہ تعطیل کا تعین چاند دیکھنے کے مطابق ہوگا۔ لیکن غیر منتخب حکومت کا تعطیل کو نہ بدلنے کا فیصلہ غیر حساس ہے اور یہ عوام کے جذبات کو مجروح کرنے کے لیے جان بوجھ کر کیا گیا ہے۔”
اس سے قبل وزیر تعلیم سکینہ ایتو نے بھی انتظامیہ کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ تعطیل کو تبدیل نہ کرنا ایک ناانصافی ہے جو “عوام کے جذبات کے ساتھ کھیلنے” کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے فیصلے منتخب حکومت کو کرنے چاہئیں نہ کہ محض افسروں کو۔
اسی دوران جموں و کشمیر کے مفتی اعظم ناصر الاسلام نے بھی حکومت کے نوٹیفکیشن اور چاند دیکھنے میں تضاد کو “انتہائی افسوسناک” قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ عید میلاد کی مذہبی حرمت کو نظر انداز کرنا ایک منفی رویے کی عکاسی کرتا ہے۔
یہ تنازعہ عوامی حلقوں میں بے چینی کا باعث بنا ہے اور لوگوں نے مطالبہ کیا ہے کہ مذہبی تہواروں سے متعلق معاملات میں زیادہ حساسیت برتی جائے۔ رہنماؤں نے انتظامیہ پر زور دیا ہے کہ وہ عید میلاد کی روحانی اہمیت کا احترام کرے اور آئندہ کے نوٹیفکیشن چاند دیکھنے کے عین مطابق جاری کرے۔










