امت نیوز ڈیسک //
اننت ناگ، 6 ستمبر:وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے ہفتے کے روز حضرتبل درگاہ میں نصب کیے گئے نشان (Emblem) کو ”غیر ضروری اور قابلِ اجتناب“ قرار دیتے ہوئے اس کی سخت تنقید کی۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ انہوں نے کسی بھی مذہبی ادارے یا تقریب میں اس طرح کا نشان کبھی نہیں دیکھا، اور حضرتبل میں اسے لگانے کی کوئی توجیہہ نہیں بنتی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر یہ کام خلوصِ نیت کے ساتھ کیا جاتا تو لوگ خود بخود اس کو تسلیم کر لیتے، کسی تختی یا پتھر کی ضرورت نہ پڑتی۔
انہوں نے یاد دلایا کہ اس درگاہ کی شکل و صورت شیخ محمد عبداللہ نے دی تھی، لیکن انہوں نے کبھی ذاتی کریڈٹ کے لیے کوئی تختی یا پتھر استعمال نہیں کیا، پھر بھی ان کی خدمات آج بھی یاد رکھی جاتی ہیں۔
وقف بورڈ کی چیئرپرسن ڈاکٹر درخشاں اندرابی کے اس بیان پر کہ جن لوگوں نے نشان کو نقصان پہنچایا ان کے خلاف پی ایس اے کے تحت کارروائی ہوگی، عمر عبداللہ نے کہا کہ اصل غلطی عوام کے جذبات کو مجروح کرنا تھا، اور درست راستہ یہ تھا کہ معافی مانگی جاتی۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ نشان سرکاری دفاتر میں موزوں ہوتے ہیں، نہ کہ مندروں، مساجد یا درگاہوں میں۔ (کے این سی)









