امت نیوز ڈیسک //
سرینگر، 6 ستمبر: پی ڈی پی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے ہفتے کے روز حضرت بل درگاہ کے اندر ریاستی نشان والے متنازعہ افتتاحی کتبے کی تنصیب کے ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے تعزیرات ہند کی دفعہ 295-اے کا حوالہ دیا، جو مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے والے دانستہ اقدامات سے متعلق ہے۔
سرینگر میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے محبوبہ مفتی نے کہا کہ اس اقدام نے مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو گہری ٹھیس پہنچائی ہے اور ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق مقدمہ درج ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا:”جن لوگوں نے مذہبی جذبات کے تحت نشان کو نقصان پہنچایا، ان پر کارروائی کرنے کے بجائے، حکومت کو چاہیے کہ وقف بورڈ کی چیئرپرسن اور اراکین کے خلاف ایف آئی آر درج کرے جنہوں نے اس عمل کی اجازت دی۔ حضرت بل ایک مذہبی مقام ہے، نہ کہ تاجپوشی یا سیاسی علامتوں کی جگہ۔”
انہوں نے وقف بورڈ کی چیئرپرسن درخشاں اندرابی کو تنقید کا نشانہ بنایا جنہوں نے کتبے کو نقصان پہنچانے والوں کے خلاف پی ایس اے لگانے کا مطالبہ کیا تھا۔ محبوبہ مفتی نے کہا:”یہ ناقابل قبول ہے کہ بھارت کے وزیر داخلہ کو مقامی لوگوں پر پی ایس اے لگانے کے لیے کہا جائے۔ اصل سوال یہ ہے کہ ایک ایسے مزار میں نشان کی تنصیب کی اجازت کس نے دی جہاں بت پرستی کا کوئی تصور ہی نہیں۔”
محبوبہ نے کہا کہ سابقہ حکومتوں نے حضرت بل کی ترقی کے لیے کام کیا ہے لیکن انہوں نے ایسی چیزوں سے ہمیشہ گریز کیا جنہیں وہ "غیر اسلامی عمل” قرار دیتی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا:”یہ کوئی بی جے پی کا پروگرام نہیں تھا۔ بدقسمتی سے حضرت بل کی حرمت کو اس انداز میں مجروح کیا گیا۔”(کے این ٹی)










