امت نیوز ڈیسک //
سرینگر: جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے عام آدمی پارٹی (عآپ) سے رکن اسمبلی معراج ملک کی قانونی لڑائی لڑنے کے لیے ایک قابل وکیل کی خدمات حاصل کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ عمر عبداللہ نے ڈوڈہ سے منتخب ایم ایل اے معراج ملک پر پبلک سیفٹی ایکٹ (پی ایس اے) عائد کیے جانے کو ’’غیرمنصفانہ‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے اور ’’ان کی رہائی کے لیے قانونی لڑائی مؤثر طریقے سے لڑنی ہوگی۔‘‘ عمر نے عآپ کو مشورہ دیا کہ وہ ’’ایک ایسے کشمیری وکیل کی خدمات حاصل کریں جو پی ایس اے مقدمات لڑنے میں مہارت رکھتا ہو۔‘‘
عمر عبداللہ نے بتایا کہ انہوں نے سرینگر میں معراج ملک کے والد سے ملاقات کی ہے اور انہیں ہر ممکن تعاون فراہم کرنے کی یقین دہانی کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کچھ وکلاء نے ان سے رابطہ کیا ہے اور وہ معراج ملک کے مقدمے کی پیروی کے لیے تیار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دہلی سے آئے ہوئے راجیہ سبھا رکن سنجے سنگھ اور ایم ایل اے عمران حسین کو سرینگر میں سرکاری گیسٹ ہاؤس میں بند کرنا نہ صرف غیر قانونی ہے بلکہ اس عامل نے جموں و کشمیر کے بارے میں ملک اور بیرون ملک غلط تاثر دیا ہے۔ عمر کے مطابق ’’یہ بالکل ویسی ہی صورتحال ہے جیسے ہمیں 13 جولائی (یومِ شہداء) کو ’بند‘ کیا گیا تھا۔‘‘
وزیر اعلیٰ کے مطابق ’’اگر معراج ملک پر کوئی الزام تھا تو اسے اسمبلی میں اٹھایا جانا چاہیے تھا، نہ کہ ایک سخت اور متنازعہ قانون کے تحت گرفتار کیا جانا چاہیے تھا۔‘‘ معراج ملک کی گرفتاری کے بعد جموں و کشمیر کے دونوں صوبوں خاص کر چناب ویلی اور ڈوڈہ ضلع میں بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے ہوئے۔ ڈوڈہ میں انتظامیہ نے مظاہروں کو روکنے کے لیے نہ صرف انٹرنیٹ خدمات معطل کیں بلکہ سیکشن 163 بی این ایس نافذ کر کرکے سخت پابندیاں عائد کیں۔









