امت نیوز ڈیسک //
پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر اور سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے ہفتہ کو ڈوڈہ کے رکنِ اسمبلی مہراج ملک پر پبلک سیفٹی ایکٹ (پی ایس اے) کے اطلاق کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے سنگین ناانصافی اور خطرناک روایت قرار دیا۔
مرحوم چودھری سلام الدین بجاڑ کے اہلِ خانہ سے تعزیت کے بعد نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے محبوبہ نے کہا کہ حکومت کو معاملے کو جمہوری اداروں کے ذریعے حل کرنا چاہیے تھا نہ کہ ایک منتخب نمائندے کو جیل کے پیچھے ڈالنا چاہیے تھا۔
انہوں نے کہا:”ایک منتخب ایم ایل اے پر پی ایس اے لگانا ناانصافی ہے۔ اسپیکر کو چاہیے تھا کہ فوری طور پر اسمبلی کا ہنگامی اجلاس بلاتے، معاملے پر بحث ہوتی اور ایک قرارداد پاس کرکے دہلی بھیجی جاتی کہ ایسے اقدامات ہرگز برداشت نہیں کیے جائیں گے۔”
محبوبہ مفتی نے الزام لگایا کہ حکومت جموں و کشمیر میں جمہوری اداروں کو کمزور کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسمبلی میں مسئلہ حل کرنے کے بجائے ایک منتخب لیڈر کو خاموش کرانے کا راستہ اختیار کیا گیا۔
انہوں نے کہا:”یہ سراسر ناانصافی ہے۔ ابھی بھی وقت ہے کہ اسپیکر سیاسی اختلافات سے اوپر اٹھیں اور اجلاس بلائیں۔ پی ڈی پی سے جو بھی حساب برابر کرنا ہے کیجیے لیکن جمہوریت کو کمزور مت کیجیے۔”
انہوں نے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کے قانونی مدد فراہم کرنے کے بیان پر بھی سوال اٹھایا اور کہا:”اگر قانونی مدد دینی ہے تو وہ ان ہزاروں غریب قیدیوں کو دیجیے جن کے اہلِ خانہ کے پاس وسائل اور طاقت نہیں ہے، نہ کہ ایک ایسے ایم ایل اے کو جو اپنے مقدمے کے لیے وسائل رکھتا ہے۔”
پی ڈی پی صدر نے یاد دلایا کہ ہزاروں کشمیری قیدی بھارت کی مختلف جیلوں میں قید ہیں، جن میں تہاڑ، آگرہ، راجستھان اور اتر پردیش شامل ہیں، اور ان کے اہلِ خانہ ان سے ملاقات تک کی استطاعت نہیں رکھتے۔
محبوبہ مفتی نے عام آدمی پارٹی کے ایم پی سنجے سنگھ کی حالیہ گرفتاری کا بھی ذکر کیا اور کہا:”ان کی گرفتاری اس بات کی یاد دہانی ہے کہ آرٹیکل 370 کی منسوخی کی حمایت کے نتائج کیا نکلتے ہیں۔ 2019 میں انہوں نے اس کی منسوخی کے حق میں ووٹ دیا تھا اور کہا تھا کہ یہ جموں و کشمیر کے لیے اچھا ہے۔ آج وہ خود اس فیصلے کے نتائج بھگت رہے ہیں۔”
آخر میں محبوبہ نے اسپیکر سے فوری اقدام کی اپیل کرتے ہوئے کہا:
"اسمبلی اجلاس فوراً بلایا جائے، اس پر بحث ہو اور ایک قرارداد پاس کرکے مہراج ملک کی رہائی کے لیے اقدام کیا جائے۔ منتخب نمائندوں کے خلاف ایسے اقدامات دوبارہ کبھی نہیں ہونے چاہئیں۔”










