امت نیوز ڈیسک //
سرینگر، 13 ستمبر: پی ڈی پی کے ایم ایل اے وحید پرہ نے ہفتہ کو کہا کہ پبلک سیفٹی ایکٹ (پی ایس اے) کا ہمیشہ جموں و کشمیر کے عوام کے خلاف "غلط استعمال” ہوا ہے اور اب وقت آ گیا ہے کہ اس پر سنجیدگی سے غور کیا جائے۔
ان کے یہ ریمارکس ڈوڈہ سے عام آدمی پارٹی کے ایم ایل اے مہراج ملک کی پی ایس اے کے تحت گرفتاری کے بعد سامنے آئے ہیں۔ اس سخت قانون کے تحت بعض معاملات میں بغیر چارج یا ٹرائل کے دو سال تک حراست میں رکھا جا سکتا ہے۔
پرہ نے پلوامہ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: "پی ایس اے کا ہمیشہ عوام کے خلاف غلط استعمال ہوا ہے۔ اس کے خلاف عوام میں شدید ناراضگی ہے اور ضرورت ہے کہ اس کا استعمال روکا جائے۔ تمام اداروں کو اس پر بات کرنی چاہیے۔”
انہوں نے کہا کہ اس قانون اور اس کے نفاذ پر سنجیدگی سے نظرثانی کی ضرورت ہے۔ پارہ نے ملک کی پی ایس اے کے تحت گرفتاری کو "بدقسمتی” قرار دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ سیاسی جماعتوں نے اسمبلی انتخابات اس لئے لڑے تاکہ سب مل کر اس "سیاہ قانون” کو ختم کریں، مگر افسوس ہے کہ ہم اس پر بات بھی نہیں کر رہے۔
پرہ کے مطابق، جموں و کشمیر اسمبلی اسپیکر عبدالرحیم راتھر نے ایک نوٹیفکیشن جاری کیا کہ ملک کو پی ایس اے کے تحت گرفتار کیا گیا ہے، لیکن اس کی مذمت کے لئے کوئی دوسرا نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا۔
پی ڈی پی لیڈر نے کہا کہ ہزاروں نوجوان جیلوں میں ہیں اور اگر اہم عہدوں پر بیٹھے سیاستدان اس مسئلے پر آواز نہیں اٹھائیں گے تو عوامی نمائندگی کا کوئی فائدہ نہیں۔
اسپیکر کی طرف سے انہیں شوکاز نوٹس ملنے کے سوال پر پرہ نے کہا کہ وہ اس کا جواب دیں گے اور ممکن ہوا تو سپیکر سے ملاقات بھی کریں گے۔ یہ نوٹس پتہ کو ان کے سوشل میڈیا پوسٹ پر جاری کیا گیا تھا جس میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ اسمبلی سیکریٹریٹ نے ملک کی پی ایس اے کے تحت گرفتاری کی توثیق کی ہے۔









