امت نیوز ڈیسک //
وادیٔ کشمیر میں سیب کا سیزن عروج پر ہے وہیں ٹرانسپورٹ کی قلت نے کاشتکاروں اور تاجروں کی مشکلات میں بے پناہ اضافہ کر دیا ہے۔ نیشنل ہائی وے کی بار بار بندش، مال بردار گاڑیوں کی کمی اور کرایوں میں کئی گنا اضافے کے سبب کشمیر کی فروٹ انڈسٹری بھاری نقصان جھیل رہی ہے۔
فروٹ ایسوسی ایشن شوپیان کے صدر محمد اشرف نے میڈیا کو بتایا کہ وادی کی سبھی فروٹ منڈیوں کو دو دن کے لئے بند رکھنے کا فیصلہ ویلی فروٹ ایسوسی ایشن کشمیر کی ایک اہم میٹنگ کے دوران کیا گیا۔ اس میٹنگ کی صدارت ایسوسی ایشن کے صدر بشیر احمد بشیر نے کی، جس میں مختلف اضلاع کی ایسوسی ایشنز کے نمائندے بھی شامل تھے۔
محمد اشرف کے مطابق، قومی شاہراہ کی مسلسل بندش کی وجہ سے سیب سے بھرے ٹرک گھنٹوں اور دنوں تک راستے میں پھنسے رہتے ہیں، جس سے مال خراب ہو کر واپس منڈیوں میں آ جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب تک کروڑوں روپے کا نقصان ہو چکا ہے اور اگر ٹرانسپورٹ کی فراہمی کو یقینی نہ بنایا گیا تو یہ نقصان مزید بڑھ سکتا ہے۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ کچھ ٹرانسپورٹ گاڑیاں دستیاب ہیں، مگر ان کے کرائے معمول سے تین گنا زیادہ ہو چکے ہیں، جسے کاشتکار برداشت کرنے سے قاصر ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مشترکہ طور پر وادی بھر کی منڈیوں کو دو دن کے لئے بند رکھنے کا اعلان کیا گیا ہے۔
فروٹ ایسوسی ایشن نے حکومت اور اعلیٰ حکام سے فوری مداخلت کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ سری نگر-جموں قومی شاہراہ کو ہنگامی بنیادوں پر قابل آمدورفت بنایا جائے اور متبادل راستوں جیسے مغل روڈ پر بھی بڑی گاڑیوں کو چلنے کی اجازت دی جائے تاکہ سیب کی فصل بروقت ملک کی دیگر ریاستوں تک پہنچ سکے اور کشمیر کی فروٹ انڈسٹری زوال سے بچائی جا سکے۔









