امت نیوز ڈیسک //
سرینگر: جموں کی ایک نامزد ٹی اے ڈی اے (TADA) عدالت نے منگل کے روز سابق میرواعظ کشمیر مرحوم مولوی محمد فاروق کے قتل کیس میں گرفتار دو ملزمان کی ضمانت کی درخواستیں مسترد کر دیں۔ مرحوم مولوی فاروق علیحدگی پسند لیڈر اور اس وقت کے میرواعظ کشمیر مولوی عمر فاروق کے والد تھے۔
عدالت نے ظہور بٹ اور جاوید بٹ کی جانب سے طبی بنیادوں پر دائر ضمانت کی درخواستوں کو خارج کرتے ہوئے حکم دیا کہ دونوں ملزمان کو بدستور سنٹرل جیل میں رکھا جائے۔
یاد رہے کہ وادی کشمیر کے ممتاز مذہبی رہنما اور قدآور سیاسی شخصیت میرواعظ مولوی محمد فاروق کو مئی 1990 میں سرینگر میں ان کی رہائش گاہ پر گولی مار کر قتل کیا گیا تھا۔ اس واقعے کی تفتیش سی بی آئی نے کی تھی جس میں حزب المجاہدین کے کمانڈروں – عبداللہ بنگرو اور رحمان شگن – کو سازش کا ماسٹر مائنڈ قرار دیا گیا، جبکہ اس سازش کو ایوب ڈار، جاوید بٹ اور ظہر بٹ نے انجام دیا تھا۔
بعد ازاں بنگرو اور شگن سیکورٹی فورسز کے ساتھ الگ الگ جھڑپوں میں مارے گئے تھے جبکہ ایوب ڈار گرفتاری کے بعد عمر قید کی سزا کاٹ رہا ہے۔ وہیں جاوید بٹ اور ظہر بٹ – تین دہائیوں تک قانونی گرفت سے بچے رہنے کے بعد بالآخر مئی 2023 میں گرفتار کیے گئے۔
گزشتہ ماہ ان کی ضمانت کی درخواستوں پر سماعت مکمل ہوئی تھی اور آج عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ’’ملزمان کی رہائی کے لیے کوئی بنیاد نہیں‘‘ اور انہیں زیر حراست ہی رکھا جائے۔










