امت نیوز ڈیسک //
سرینگر، 17 ستمبر: نیشنل کانفرنس (این سی) کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے بدھ کو جموں و کشمیر کی فروٹ انڈسٹری کو سبوتاژ کرنے کی کسی بھی "جان بوجھ کر کوشش” کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ سرینگر-جموں قومی شاہراہ کی بندش عوام کی وجہ سے نہیں بلکہ "خدا کے قہر” کی وجہ سے ہے۔
انہوں نے اننت ناگ میں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا:”یہ کوئی جان بوجھ کر کی گئی کوشش نہیں ہے۔ کیا لوگوں نے پہاڑ توڑ دیے؟ کیا بارش لوگوں کی وجہ سے ہوئی؟ یہ خدا کا قہر ہے کیونکہ ہم نے خدا سے دوری اختیار کی ہے۔”
فاروق عبداللہ ان سیاسی رہنماؤں کے الزامات کا جواب دے رہے تھے جنہوں نے کہا تھا کہ فروٹ سے لدے ٹرک شاہراہ پر "جان بوجھ کر” روکے گئے تاکہ جموں و کشمیر کی معیشت کو نقصان پہنچایا جائے۔
سابق وزیر اعلیٰ نے کہا:”لوگ دعا نہیں کرتے اور نہ ہی خدا کو یاد کرتے ہیں۔ کیا ہم خدا کی نعمتیں غریبوں سے بانٹتے ہیں؟ ہمیں یہ سیکھنا ہوگا۔ یہ مصیبتیں ہمیں جگانے کے لیے ہیں تاکہ ہم اپنے رب کو یاد کریں، اور جب ہم یہ کریں گے تبھی وہ ہمیں ان مشکلات سے نکالے گا۔”
غزہ کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا:”دیکھو وہاں کیا ہو رہا ہے۔ اسرائیل کوشش کر رہا ہے کہ انہیں مٹا دے۔ کیا کوئی مسلم ملک آواز اٹھا رہا ہے؟ ہزاروں لوگ مر رہے ہیں، کیوں؟ اس لیے کہ وہ خدا سے دور ہیں۔ انہیں یہ نہیں معلوم کہ خدا موجود ہے اور وہ ان کا امتحان لے رہا ہے۔”
یہ پوچھے جانے پر کہ کیا رہنما فروٹ کے مسئلے پر سیاست کر رہے ہیں، این سی صدر نے کہا:”سیاست کشمیر میں کبھی ختم نہیں ہوگی۔ ان کے گھروں کا چولہا اسی پر چلتا ہے۔ انہیں دہلی سے پیسہ ملتا ہے اور وہ انہی کی برکتوں پر زندہ ہیں۔ جس دن پیسہ بند ہوگا، یہ (رہنما) بھی ختم ہو جائیں گے۔”









