امت نیوز ڈیسک //
سرینگر، 18 ستمبر: وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعرات کو کہا کہ اگر مشہور سیاحتی مقامات سیاحوں کے لیے بند ہی رہیں تو حکومت کی سیاحت کو فروغ دینے والی تشہیری مہمات بے معنی ثابت ہوں گی۔
گلمرگ میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ حال ہی میں پہلگام میں پیش آیا واقعہ نہیں ہونا چاہیے تھا، تاہم اس کے بعد کئی اصلاحی اقدامات کیے گئے ہیں۔ "جو کچھ پہلگام میں ہوا وہ نہیں ہونا چاہیے تھا، لیکن اس کے بعد کئی اقدامات اٹھائے گئے۔ مگر جب تک بند مقامات کو کھولا نہیں جاتا، ہماری سیاحتی تشہیر محض ایک لاحاصل مشق ہے۔ اگر یہ مقامات کھلے ہی نہیں ہیں تو پھر سیاحت پر وسائل خرچ کرنے کا کیا فائدہ؟” انہوں نے کہا۔
وزیراعلیٰ نے اس بات پر زور دیا کہ جموں و کشمیر کی معیشت بڑی حد تک سیاحت پر منحصر ہے اور سیاحتی مقامات کو بند کرنا وادی کے بارے میں منفی تاثر پیدا کرتا ہے۔
عمر عبداللہ نے بعض معاملات میں سیاسی رہنماؤں کو تعزیت پیش کرنے سے روکنے پر بھی ناراضگی ظاہر کی۔
ادھر وادی کے سیاحتی شعبے سے جڑے افراد نے بارہا یہ مسئلہ اٹھایا ہے کہ مختلف ریزورٹس تک رسائی میں پابندیاں گھریلو اور غیر ملکی سیاحت دونوں کو متاثر کر رہی ہیں۔











