امت نیوز ڈیسک //
سرینگر، 22 ستمبر : نیشنل کانفرنس کے صدر اور سابق وزیراعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے پیر کو موجودہ حالات میں جموں و کشمیر میں حکومت چلانے کو ’’تلوار کی دھار پر چلنے‘‘ کے مترادف قرار دیا۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فاروق عبداللہ نے کہا کہ مشکلات کے باوجود حکمرانی جاری رکھنی ہوگی۔ انہوں نے کہا:
’’موجودہ حالات میں حکومت چلانا بالکل تلوار کی دھار پر چلنے جیسا ہے، لیکن ہمیں حکومت چلانی ہے۔‘‘
نیشنل کانفرنس سربراہ نے ایک بار پھر ریاستی درجے کی بحالی کو جموں و کشمیر کے عوام کا اہم مطالبہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا:
’’ریاستی درجہ ایک اہم مسئلہ ہے اور جموں و کشمیر کے عوام کو امید ہے کہ یہ بحال کیا جائے گا۔ اس پر دہلی پر دباؤ ڈالنے پر توجہ دینی چاہیے۔‘‘
جب ان سے حریت رہنما یاسین ملک کے معاملے پر سوال کیا گیا تو عبداللہ نے کوئی تفصیلی تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔ انہوں نے کہا:
’’یہ معاملہ عدالت میں ہے اور فیصلہ عدالت ہی کرے گی۔‘‘
ڈوڈہ کے ایم ایل اے مہراج ملک پر پبلک سیفٹی ایکٹ (PSA) لگانے پر فاروق عبداللہ نے ناراضگی ظاہر کی، تاہم انہوں نے رکن اسمبلی کی زبان کے استعمال پر بھی ناپسندیدگی کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا:
’’مہراج ملک پر پی ایس اے درست نہیں، لیکن ان کی غیر پارلیمانی زبان غلط تھی۔ اس معاملے میں ہمارا کوئی اختیار نہیں، یہ اختیار لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کے پاس ہے۔‘‘
جی ایس ٹی (Goods and Services Tax) میں کمی سے متعلق سوال پر فاروق عبداللہ نے کہا کہ ریاستی درجے کی بحالی کو ترجیح دی جانی چاہیے۔ انہوں نے کہا:
’’جی ایس ٹی کے بجائے ریاستی درجہ کی بات کرنا بہتر ہے۔‘‘
ان کا اشارہ اس بات پر تھا کہ سیاسی حیثیت اور آئینی ضمانتیں ان کی جماعت کے ایجنڈے پر سب سے زیادہ اہمیت رکھتی ہیں۔










