امت نیوز ڈیسک //
لیہ، 24 ستمبر: لداخ کے لیفٹیننٹ گورنر کویندر گپتا نے بدھ کے روز ریاستی درجہ کے مطالبے پر ہونے والے احتجاج کے دوران تشدد اور جانی نقصان کے لیے بعض مفاد پرست عناصر کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہا کہ ضلع لیہ میں مزید خونریزی کو روکنے کے لیے کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ تشدد کے ذمہ داروں کی نشاندہی کی جائے گی اور ان کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
گپتا نے عوام سے خطاب کرتے ہوئے کہا:
"کرفیو احتیاطی تدبیر کے طور پر نافذ کیا گیا ہے۔ یہاں انسانی جانیں ضائع ہوئی ہیں اور میں لواحقین سے تعزیت کا اظہار کرتا ہوں۔ مزید جانی نقصان کو روکنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔”
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ کسی بھی قسم کے تشدد کو برداشت نہیں کیا جائے گا اور پولیس و ضلعی انتظامیہ کو ہدایت دی کہ امن کو خراب کرنے اور املاک کو نقصان پہنچانے والے تمام عناصر کی نشاندہی کر کے ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔
گپتا نے دعویٰ کیا کہ لداخ کے پُرامن ماحول کو بگاڑنے کے لیے تشدد کو ایک سازش کے تحت بھڑکایا گیا۔
انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ امن و ہم آہنگی کو قائم رکھیں اور ایسے عناصر کے بہکاوے میں نہ آئیں جو معاشرتی ڈھانچے اور عوامی نظم کو بگاڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
قابل ذکر ہے کہ لیہ ایپکس باڈی کی جانب سے ریاستی درجہ اور چھٹے شیڈول کے نفاذ کے مطالبے پر دیے گئے شٹر ڈاؤن کے دوران مظاہرین اور سیکورٹی فورسز کے درمیان پورے دن جاری جھڑپوں میں چار افراد ہلاک اور 45 سے زائد زخمی ہوگئے جن میں 22 پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔
مظاہرین نے ایک بی جے پی دفتر، ایک پولیس گاڑی اور متعدد کاروں کو نذر آتش کر دیا۔










