امت نیوز ڈیسک //
نئی دہلی، 3 اکتوبر:ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک کی اہلیہ گیتانجلی انگمو نے سپریم کورٹ میں عرضی دائر کرتے ہوئے اپنے شوہر کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔
وانگچک کو 26 ستمبر کو نیشنل سکیورٹی ایکٹ (این ایس اے) کے تحت حراست میں لیا گیا تھا، یہ گرفتاری اس وقت عمل میں آئی جب لداخ میں ریاستی درجہ اور چھٹی شیڈول کے مطالبے پر ہونے والے مظاہروں میں چار افراد ہلاک اور 90 زخمی ہوئے تھے۔ اس وقت وہ راجستھان کی جودھپور جیل میں قید ہیں۔
انگمو نے وکیل سروم رتیم کھرے کے ذریعے دائر اپنی عرضی میں وانگچک کی گرفتاری کو چیلنج کیا ہے اور ان کی فوری رہائی کی استدعا کی ہے۔ درخواست میں یہ سوال بھی اٹھایا گیا ہے کہ وانگچک کے خلاف این ایس اے جیسے سخت قانون کا اطلاق کیوں کیا گیا۔
انگمو کا کہنا ہے کہ تاحال انہیں گرفتاری کا حکم نامہ فراہم نہیں کیا گیا جو قواعد کی خلاف ورزی ہے۔ مزید یہ کہ اب تک ان کا وانگچک سے کوئی رابطہ بھی نہیں ہو پایا ہے۔
دوسری جانب، لداخ انتظامیہ نے حالیہ بیانات میں اس بات کی تردید کی ہے کہ وانگچک کے خلاف کارروائی کسی "وِچ ہنٹ” یا "سازشانہ پردہ پوشی” کے طور پر کی گئی ہے۔ – (پی ٹی آئی)











