امت نیوز ڈیسک //
سرینگر، 10 اکتوبر : پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر محبوبہ مفتی نے جمعہ کو نیشنل کانفرنس (این سی) پر جموں و کشمیر اسمبلی میں زمین کے تحفظ کے حوالے سے ایک پرائیویٹ ممبر بل پیش کرنے پر سخت تنقید کی، اسے “سیاسی ڈرامہ” قرار دیا، کیونکہ پارٹی کے پاس پہلے ہی ایوان میں اکثریت موجود ہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے محبوبہ مفتی نے این سی کے اقدام پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا، “جب آپ کے پاس 50 سے زیادہ ایم ایل ایز ہیں تو پرائیویٹ ممبر بل لانے کا کیا مطلب ہے؟ اگر آپ واقعی عوام کی زمین کا تحفظ چاہتے ہیں تو یہ بل حکومت کے طور پر لائیں۔”
انہوں نے کہا کہ حکومت کو ریاستی درجہ بحال ہونے تک مقامی لوگوں کے مفادات کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کرنے چاہئیں۔ “2019 کے بعد ایسے قوانین بنائے گئے ہیں جن کے تحت باہر کے لوگ زمین حاصل کرسکتے ہیں۔ اسے صنعت یا ترقی کے نام پر کیا جا رہا ہے۔ یہاں تک کہ زمین سیکورٹی فورسز کو بھی دے دی گئی ہے، صرف اسے ‘اسٹریٹجک لینڈ’ کہہ دیں اور کام ختم۔ یہ صرف کشمیر میں نہیں بلکہ لداخ میں بھی ہو رہا ہے،” انہوں نے کہا۔
محبوبہ مفتی نے الزام لگایا کہ کھیل کے میدان اور کمیونٹی اسپیسز بھی چھینے جا رہے ہیں، جس سے مقامی لوگ بنیادی حقوق سے محروم ہو رہے ہیں۔ “یہ کیسا انصاف ہے جب جموں، کشمیر اور لداخ کے عوام اس طرح کے ظلم کا سامنا کر رہے ہیں؟” انہوں نے سوال کیا۔
این سی پر مزید تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا، “یہ کیسا ڈرامہ ہے کہ آپ کا ایم ایل اے ایک پرائیویٹ بل لاتا ہے اور اسے انٹرنیٹ پر اپ لوڈ کرتا ہے؟ اگر آپ نے پی ڈی پی کا بل قبول نہیں کیا تو بطور حکمران جماعت خود بل لائیں۔”
انہوں نے اپوزیشن لیڈر سنیل شرما کو بھی نشانہ بنایا اور کہا کہ ایک ایم ایل اے ہونے کے ناطے انہیں عوامی مفاد میں اپنی قانون سازی کی طاقت استعمال کرنی چاہیے۔ “قانون سازوں کا کام قانون بنانا اور عوامی مفاد کا دفاع کرنا ہے، نہ کہ خاموش رہنا،” محبوبہ نے کہا۔
بین الاقوامی معاملات پر بات کرتے ہوئے محبوبہ مفتی نے حماس اور اسرائیل کے درمیان امن معاہدے کا خیرمقدم کیا اور امید ظاہر کی کہ “غزہ میں خونریزی کا سلسلہ اب رک جائے گا۔” [کے این ٹی]










