امت نیوز ڈیسک //
سرینگر: وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) پر منافقت کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پارٹی نے لداخی ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک کو چند ماہ میں ہی اپنے "ہیرو” سے "ملک دشمن” بنا دیا۔
ایک قومی میڈیا ادارے کو دیے گئے انٹرویو میں عمر عبداللہ نے کہا کہ بی جے پی کا وانگچک کے تئیں بدلتا ہوا رویہ اس کی عدم برداشت اور موقع پرستی کو ظاہر کرتا ہے۔
انہوں نے کہا، "سونم وانگچک کچھ عرصہ قبل تک بی جے پی اور وزیر اعظم کی تعریفوں میں زمین آسمان کے قلابے ملا رہے تھے، اور آج اچانک وہ ان کے لیے ملک دشمن بن گئے ہیں۔”
وزیر اعلیٰ نے وانگچک کے معاملے کا موازنہ کارکن مہراج ملک کی پی ایس اے کے تحت نظربندی سے کرتے ہوئے کہا،
"مہراج ملک کی نظربندی کسی طرح بھی جائز نہیں، لیکن کم از کم وہ بی جے پی کے پوسٹر بوائے نہیں تھے۔”
عمر عبداللہ نے ان افواہوں کو بھی سختی سے مسترد کیا جن میں حالیہ سیاسی پیش رفتوں کے دوران نیشنل کانفرنس (این سی) اور بی جے پی کے درمیان کسی خفیہ مفاہمت کا اشارہ دیا جا رہا تھا۔
انہوں نے کہا، "بی جے پی اور این سی کے درمیان کسی قسم کی کوئی مفاہمت نہیں ہے۔ ہم نے خود میدان میں اتر کر راجیہ سبھا انتخابات لڑے اور ناگروٹا میں بی جے پی کے خلاف اپنا امیدوار کھڑا کیا، جہاں کانگریس نے حصہ لینے سے انکار کیا تھا۔”
پیپلز کانفرنس کے سربراہ سجاد لون کی جانب سے لگائے گئے الزامات کے جواب میں عمر عبداللہ نے کہا،
"سجاد لون کے الزامات کی کوئی حیثیت نہیں۔ وہ ووٹنگ سے غیر حاضر رہے، یہ جانتے ہوئے کہ ان کا غیر حاضر رہنا بی جے پی کے حق میں جائے گا۔”
وزیر اعلیٰ نے نیشنل کانفرنس کے آزاد سیاسی مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ مرکز کے ساتھ انتظامی سطح پر تال میل کو کسی سیاسی اتحاد سے تعبیر نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے کہا، "حکومتِ ہند کے ساتھ انتظامی روابط قائم رکھنا ایک بات ہے، اور کسی سیاسی اتحاد میں شامل ہونا بالکل دوسری۔ دونوں کو خلط ملط نہیں کیا جانا چاہیے۔”









